واشنگٹن (17 اگست 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناراض ہو کر جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا مشترکہ فوجی مشقیں بہت مہنگی ہیں، اور فوجی مشقیں شمالی کوریا کو امریکا اور جنوبی کوریا کی جانب سے دشمنی کا پیغام دیتی ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا شمالی کوریا کے کم جونگ اُن کے ساتھ میرے انتہائی اچھے تعلقات کی بنیاد پر، میں اس بات سے خوش نہیں ہوں کہ امریکا نے بہت عرصہ پہلے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی تھی۔انھوں نے کہا یہ مشقیں نہ صرف مہنگی ہیں، جن کے اخراجات کا ایک بڑا حصہ حسبِ معمول امریکا ادا کرتا ہے، بلکہ ایک ایسے ملک کے لیے ایک ایسا اشارہ بھی بھیجتی ہیں جو سراسر نامناسب اور دشمنی پر مبنی ہے۔انھوں نے مزید کہا جب سے ڈونلڈ جے ٹرمپ صدر ہیں، شمالی کوریاامریکا کے لیے کسی قسم کا خطرہ پیدا کرنے والا نہیں رہا اور احترام کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ٹرمپ نے کہا اگرچہ اب بہت دیر ہو چکی ہے اور انھیں منسوخ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے میں نے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کو ہدایت دی ہے کہ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں طور پر کمی کی جائے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس کا اس معاملے سے براہِ راست تعلق نہیں ہے، لیکن میں نے جنوبی کوریا سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں میں مدد مانگی تھی، لیکن اس نے میری درخواست کو مسترد کر دی۔