ڈھاکا (17 اگست 2026): بھارت میں پناہ گزین مفرور سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ کو حوالے نہ کرنے پر بنگلہ دیش نے بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش نے مودی سرکار پر واضح کر دیا ہے کہ بھارتی پراکسی شیخ حسینہ واجد کی حوالگی تک بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان بھارت کا دورہ نہیں کریں گے۔رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے ترجمان اے کے ایم شاہد کریم نے میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم طارق رحمان کے اگلے ہفتے بھارت کے ممکنہ دورے سے متعلق افواہوں کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم طارق رحمان کے دورے سے قبل بھارت کو سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ بھارت بنگلہ دیشی عدالت سے سزا یافتہ مجرمہ شیخ حسینہ سمیت دیگر مفرور ملزمان کی حوالگی کے عمل کو تیز کرے۔شاہد کریم نے بتایا کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے عہدیدار وزیراعظم طارق رحمان کے ممکنہ دورے کے حوالے سے حالیہ ہفتوں میں رابطے میں رہے ہیں لیکن یہ عمل انسانیت کے خلاف جرائم پر سزا یافتہ ہونے کے باوجود شیخ حسینہ کی میڈیا پر کھلے عام بیان بازی کے باعث بگڑ گیا۔بھارتی جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان عہدہ سنبھالنے کے بعد بھارت کے بجائے ملائیشیا اور چین کا دورہ کر چکے ہیں اور دورہ بھارت کے حوالے سے بنگلہ دیش کا یہ اعلان مودی سرکار کے لیے ایک اور سفارتی دھچکا ہے۔واضح رہے کہ طلبہ کی ملک گیر احتجاجی تحریک کے باعث 16 سال سے اقتدار پر قابض مطلق العنان حکمران شیخ حسینہ واجد کو حکومت چھوڑ کر دو سال قبل بھارت فرار ہونا پڑا تھا اور تب سے وہ وہیں مقیم ہیں اور اکثر بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کے خلاف بیان داغتی رہتی ہیں۔بنگلہ دیشی عدالت شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کیخلاف جرائم کا مجرم قرار دیکر سزائے موت سنا چکی ہے۔