اسرائیل پر غزہ جنگ بندی منصوبے پر عملدرآمد کےلیے امریکی دباؤ بڑھ گیا۔سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی اسرائیلی وزیراعظم سے 4 گھنٹے سے زائد ملاقات ہوئی جس میں کشنر نے نیتن یاہو پر غزہ امن منصوبہ آگے بڑھانے اور رکاوٹیں پیدا نہ کرنے پر زور دیا۔نیتن یاہو نےکہا آئندہ اسرائیلی انتخابات کے باعث منصوبے پر پیشرفت مشکل ہے نیتن یاہو نے کشنر اور غزہ بورڈ آف پیس کے نمائندے سے کہا حماس کو پہلے اقدامات کرنا ہوں گے۔سی این این کے مطابق نیتن یاہو نے مطالبہ کیا کہ حماس مکمل ہتھیار ڈالے اور اس کے بعد اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا شروع کرے جب کہ حماس کا کہنا ہے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کے ساتھ ہی ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہو گی۔یقین دہانیعرب میڈیا کے مطابق جیرڈ کشنر سے ملاقات میں حماس نے غزہ مکینوں کی بے دخلی کا معاملہ اٹھایا، امریکی ایلچی نے غزہ کے مکینوں کی بے دخلی کا اسرائیلی منصوبہ مسترد کرنے کی یقین دہانی کرائی۔جیرڈ کشنر نے حماس کو اسرائیلی انتخابات کے نتائج پر انحصار نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا، کشنر نے یقین دہانی کرائی کہ حماس کو غیر مسلح ہونے کے بعد سیاسی عمل میں شرکت کی مکمل آزادی ہوگی۔حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اور چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کریں کیوں کہ یہ منصوبہ خود ٹرمپ کا پیش کردہ ہے۔خلیل الحیہ نے کہا فلسطینی گروپ نے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل کیا ہے، امریکی امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی افواج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں اور ایک نئی غیر فوجی انتظامیہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو کی جائے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ ہفتے اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ سب سے پہلے وہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا خواہاں ہے۔