اردوان اور ٹرمپ میں فون پر گفتگو، ترکیہ کی جانب سے اہم پیش کش

Wait 5 sec.

انقرہ (18 اگست 2026): ترکیہ نے ایران امریکا کشیدگی کم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی پیش کش کر دی ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران اور امریکا کو مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا۔اردوان نے کہا کہ فریقین میں کشیدگی کم کرانے کے لیے ترکیہ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق گفتگو کے دوران رجب طیب اردوان نے امن کی کوششوں میں انقرہ کی حمایت اور تعاون کی آمادگی کا اظہار کیا۔اگست شروع ہوتے ہی ٹرمپ کی مقبولیت مزید گر گئیدوسری طرف امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں لیکن فریقین ابھی تک کسی باہمی مفاہمت تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔فاکس نیوز کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایرانی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان مذاکرات شاید پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں، لیکن دونوں جانب ابھی تک کسی اتفاقِ رائے یا مفاہمت تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔