رام مندر نذرانہ چوری معاملہ: اتر پردیش حکومت نے ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ ٹرسٹ کو سونپی

Wait 5 sec.

ایودھیا رام مندر نذرانہ چوری معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اتر پردیش کے محکمہ داخلہ نے ’شری رام جنم بھومی مندر تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ کو ضروری کارروائی کے ساتھ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی فائنل رپورٹ سونپ دی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کی مداخلت سے قبل تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی نے یہ رپورٹ تیار کر کے حکومت کو سونپی تھی۔ ایس آئی ٹی کو ٹرسٹ کی اپیل پر 13 جون کو تشکیل دیا گیا تھا۔ لکھنؤ کے ڈویژنل کمشنر وجے وشواس پنت کی سربراہی میں 3 رکنی ایس آئی ٹی میں آئی جی رینج کرن ایس اور خصوصی سکریٹری (فنانس) نیل رتن کمار بطور ممبر شامل تھے۔ایس آئی ٹی نے 23 جون کو اپنی ابتدائی رپورٹ حکومت کو سونپی تھی، جس میں کئی سخت سفارشات کی گئی تھیں۔ ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر 25 جون کو اس معاملے میں پہلی ’ایف آئی آر‘ درج کی گئی، جس میں 8 نامزد اور دیگر نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا۔ ٹرسٹ کے رکن کرشن موہن کی تحریری شکایت پر شری رام جنم بھومی اور دیگر نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ ٹرسٹ کے رکن کرشن موہن کی تحریری شکایت پر شری رام جنم بھومی تھانے میں درج کی گئی ایف آئی آر (جرم نمبر 90/2026) میں اویناش شکلا، انکلپ مشرا، لوکش مشرا، منیش کمار یادو، کرونیش پانڈے، راماشنکر مشرا، سبھاش سریواستو، شری رام شنکر یادو عرف ٹنو کے نام اور دیگر نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ ملزمین کے خلاف دفعہ 305، 306، 316(4)، 317(5)، 61، 3(5) بی این ایس اور 13(1) (اے) پی سی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔رام مندر چندہ تنازعہ: سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ عام کرنے سے کیا انکار17 اگست کو ایودھیا کے شری رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے چڑھاوے اور چندے کی مبینہ چوری کی آزادانہ تحقیقات کی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے سماعت کی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی اسٹیٹس رپورٹ کو عوامی کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایس آئی ٹی سپریم کورٹ کے سامنے جواب دہ ہے اور تحقیقات شفاف و غیر جانب دار ہونی چاہئیں۔