یومِ آزادی سے قبل سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، چاندی 3 ہزار روپے سستی

Wait 5 sec.

یومِ آزادی سے عین قبل ہندوستانی بازار میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دونوں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی۔ ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج  (ایم سی ایکس) پر چاندی کے ’4 ستمبر فیوچر‘ کی قیمت میں تقریباً 3 ہزار روپے کی کمی ہوئی ہے۔ اس گراوٹ کے بعد چاندی کی قیمت 2,32,454 روپے فی کلو کے قریب پہنچ گئی ہے۔دوسری جانب سونے کی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ ایم سی ایکس پر ’5 اکتوبر فیوچر‘ کے لیے سونے کی قیمت تقریباً 1200 روپے کم ہو کر 1,52,300 روپے سے نیچے آ گئی۔ بازار کے ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع وصول کرنے کا رجحان بھی قیمتوں میں کمی کی ایک اہم وجہ ہے۔سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یہ گراوٹ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سطح پر اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ امریکی ڈالر بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ میں مہنگائی کے اعداد و شمار نے بھی سرمایہ کاروں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ امریکہ میں مہنگائی میں اضافہ کے باعث فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود سے متعلق غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ عام طور پر شرح سود میں اضافہ سونے اور چاندی جیسی غیر سودی اثاثوں کے لیے دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ اگر امریکی فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ کرتا ہے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید بڑی گراوٹ آنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی بازار کے ساتھ ساتھ عالمی بازار میں بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق جمعہ کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت تقریباً 0.5 فیصد گر کر 4,326.75 ڈالر فی اونس پر آ گئی اور ہفتہ وار بنیاد پر بھی اس میں کمی کا رجحان رہا۔ دوسری جانب عالمی بازار میں سونا تقریباً 40 ڈالر یعنی ایک فیصد کی کمی کے ساتھ 4,379.75 ڈالر فی اونس پر کاروبار کرتا دیکھا گیا۔ چاندی کی قیمت بھی تقریباً 1.30 فیصد گر کر 64.15 ڈالر فی اونس پر آ گئی۔ عالمی بازار میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر ڈالر کی مضبوطی، امریکی شرح سود کے امکانات اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اقتصادی اعداد و شمار اور فیڈ کے آئندہ فیصلوں پر سرمایہ کاروں کی گہری نظر ہے۔اگرچہ گزشتہ 2 روز میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے، لیکن اگست کے دوران دونوں قیمتی دھاتوں نے مجموعی طور پر زبردست کارکردگی دکھائی ہے۔ اس مہینے میں سونے کی قیمت میں تقریباً 9 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ چاندی کی قیمت میں تقریباً 15 ہزار روپے فی کلو کی تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ تیزی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع وصول کرنا فطری عمل ہے۔ اس کے علاوہ عالمی اقتصادی حالات، ڈالر کی قدر، خام تیل کی قیمت اور امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی آئندہ دنوں میں سونے اور چاندی کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔اس لیے موجودہ گراوٹ کے باوجود سونے اور چاندی کے بازار پر نظر رکھنے والے سرمایہ کار عالمی اقتصادی اشاروں اور مرکزی بینکوں کے فیصلوں کو خاص اہمیت دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اگر شرح سود سے متعلق خدشات بڑھتے ہیں تو قیمتی دھاتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے، جبکہ عالمی غیر یقینی میں اضافہ ان کی قیمتوں کو دوبارہ سہارا بھی دے سکتا ہے۔