این اے ایل ایس اے آر تنازعہ: بی سی آئی چیئرمین منن کمار مشرا نے لا اسٹوڈنٹس سے معافی مانگ لی

Wait 5 sec.

بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے چیئرمین منن کمار مشرا نے ’این اے ایل ایس اے آر‘ کے طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی کو لے کر پیدا ہونے والے تنازعہ کے درمیان قانون کے طلبہ سے معافی مانگی ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر جاری کیے گئے 3 صفحات پر مشتمل خط میں منن مشرا نے کہا کہ اگر تنازعہ سے متعلق ان کی کسی بات یا خط سے قانون کے طلبہ کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو انہیں اس پر افسوس ہے۔ بی سی آئی چیئرمین نے اپنے خط میں کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے واقعات نے طلبہ برادری کے ایک طبقے میں تشویش اور تکلیف پیدا کی ہے۔ جب بھی طلبہ کسی بات سے دل آزردہ ہوں یا خود کو متاثر یا مجروح محسوس کریں تو ان کے خدشات کو صبر، حساسیت اور احترام کے ساتھ سنا جانا چاہیے۔Bar Council of India Chairman and Rajya Sabha MP Manan Kumar Mishra issues a statement - "...The developments of the last few days have caused concern and anguish among a section of the student community. Whenever students feel hurt or aggrieved, their concerns deserve to be… pic.twitter.com/2zX4RGduT1— ANI (@ANI) August 15, 2026منن کمار مشرا  نے کہا کہ ’’اگر موجودہ تنازعہ سے متعلق میری کسی بات یا میرے کسی خط سے ہمارے قانون کے طلبہ کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو مجھے اس کا دلی افسوس ہے اور میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات کہنے میں کسی طرح کی جھجک نہیں ہونی چاہیے۔ افسوس کا اظہار کرنا عزت یا انا کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ طلبہ کے جذبات اور ان کی تشویش اہم ہیں۔واضح رہے کہ یہ خط ایسے وقت سامنے آیا ہے جب این اے ایل ایس اے آر اور بنگلورو کے این ایل ایس آئی یو کے طلبہ نے بی سی آئی کی کارروائی پر تنقید کی تھی۔ بی سی آئی نے این اے ایل ایس اے آر کے 2026 بیچ کے طلبہ کے ناموں کے اندراج پر روک لگانے کی ہدایت دی تھی۔ یہ قدم طلبہ کے ایک طبقے کی جانب سے کانووکیشن تقریب میں چیف جسٹس آف انڈیا کی شرکت پر اعتراض کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا تھا۔ بعد میں عوامی تنقید کے درمیان بی سی آئی چیئرمین نے یہ کارروائی واپس لے لی تھی۔ اپنے خط میں منن کمار مشرا نے قومی قانون یونیورسٹیوں کے طلبہ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ملک کے سب سے باشعور اور سمجھدار نوجوانوں میں شمار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ آئین، قانون کی حکمرانی، انصاف اور کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تمام فریقوں کو سننے کی اہمیت کا مطالعہ کرتے ہیں۔بی سی آئی چیئرمین نے کہا کہ آج کے یہی طلبہ مستقبل میں وکیل، سینئر وکیل، استاذ، اسکالر اور جج بنیں گے۔ ان میں سے کچھ آگے چل کر ملک کے قانونی اور عدالتی نظام کے اعلیٰ ترین عہدوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے ان کے فیصلوں کی اہمیت کسی ایک تقریب یا تنازعہ سے کہیں زیادہ ہے۔ بی سی آئی چیئرمین کے مطابق پرامن احتجاج اور اختلاف رائے آئینی جمہوریت کا حصہ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپیل کی کہ اگر مستقبل میں کوئی نئی حقیقت یا وضاحت سامنے آتی ہے تو ہر معاملے پر کھلے ذہن اور غیر جانب دارانہ انداز میں دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔منن مشرا نے کانووکیشن تقریب کو طلبہ کی زندگی کا ایک خاص موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے آسانی سے دوبارہ منعقد نہیں کیا جا سکتا۔ تقریب میں شرکت کرنا یا نہ کرنا آخرکار طلبہ کا اپنا فیصلہ ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کسی طالب علم کو تقریب میں شرکت کے لیے مجبور نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی کسی طالب علم کو اس سے دور رہنے کے لیے مجبور محسوس ہونا چاہیے۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ پورے معاملے پر غور کرنے کے بعد اپنی سمجھ اور ضمیر کے مطابق آزادانہ فیصلہ کریں۔