واشنگٹن (20 اگست 2026): امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج نے خام تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز میں ایک خفیہ بحری راستہ قائم کیا ہے۔رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فوج نے خاموشی سے آبنائے ہرمز کے اندر اور باہر تیل کی ترسیل کے لیے ایک بحری راہداری قائم کر لی ہے، جس کے ذریعے روزانہ لاکھوں بیرل تیل منتقل کیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری اس آپریشن کے تحت 15 سے 20 آئل ٹینکرز ہر رات آبنائے ہرمز میں داخل اور خارج ہو رہے ہیں۔ یہ جہاز عمان کے ساحل کے ساتھ جنوبی بحری راستے سے گزرتے ہیں۔امریکی حکام نے بتایا کہ روزانہ تقریباً 10 ملین بیرل تیل، یعنی جنگ سے پہلے آبنائے سے گزرنے والے تیل کے حجم کا تقریباً نصف، آبنائے سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے اور عالمی توانائی کی منڈی میں پہنچایا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق اگرچہ آبنائے سے باہر آنے والے تیل کی مقدار اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے، تاہم اس سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد میں واضح فرق پڑ رہا ہے۔امریکا کا مجموعی عوامی قرض پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیایہ کارروائی صرف تیل سے لدے ٹینکروں کو بحری حفاظتی حصار فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے، امریکی فوج خالی آئل ٹینکروں کو بحیرہ عرب سے آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے، خطے کے ممالک سے تیل حاصل کرنے اور پھر آبنائے سے واپس نکلنے میں بھی مدد فراہم کر رہی ہے۔ایک امریکی عہدیدار نے کہا ’’ہم گزشتہ دو ماہ سے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ پاسداران انقلاب مشکلات پیدا کر سکتی ہے، لیکن آبنائے پر اس کا کنٹرول نہیں ہے، کنٹرول ہمارا ہے۔‘‘رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق اس آپریشن کی نگرانی کرنے والی ٹاسک فورس شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں قائم امریکی فوج کے ہیڈکوارٹر سے چلائی جا رہی ہے۔ ٹاسک فورس خطے کے گلف پارٹنرز کے ساتھ رابطہ کاری کر رہی ہے۔ یہ روزانہ ان بحری جہازوں کی فہرست تیار کرتی ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے خلیج سے بحیرہ عرب کی طرف نکل رہے ہوتے ہیں۔ہر رات جہازوں کو مقررہ اوقات کے دوران ایک بڑے باہر جانے والے قافلے اور الگ مقررہ وقت میں ایک بڑے اندر آنے والے قافلے کی صورت میں حرکت کرنے کا شیڈول دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد امریکی فوج کی ہدایات کے مطابق جہاز آبنائے کے جنوبی راستے سے گزرتے ہیں۔ اور امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیارے ایرانی کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ممکنہ حملوں سے ان جہازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔