روس میں پیٹرول کی شدید قلت، بڑا فیصلہ لے لیا گیا

Wait 5 sec.

ماسکو(20 اگست 2026): یوکرین کے ڈرون حملوں اور ریفائنریوں کی بندش کے باعث روس میں توانائی کا بحران انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔یوکرین کے ڈرون حملوں اور ریفائنریوں کی بندش کے باعث روس میں توانائی کا بحران انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جس کی وجہ سے دارالحکومت ماسکو سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں پیٹرول کی فروخت محدود کر دی گئی ہے اور روس نے ایندھن کی درآمدات کا آغاز بھی کر دیا ہے۔روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک کے مطابق ریفائنریوں پر حملوں کے نتیجے میں پیداوار شدید متاثر ہوئی ہے، اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اب ایندھن درآمد کیا جا رہا ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق موسم گرما کی طلب میں اضافے اور اچانک بند ہونے والی ریفائنریوں کے باعث یہ بحران مئی میں شدت اختیار کر گیا تھا جو جولائی تک ملک کے بیشتر علاقوں میں پھیل گیا۔اگست کے وسط تک کم از کم 10 روسی علاقوں میں موٹر فیول کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، جن میں اورنبرگ، لیپٹسک، تویر، کریسوڈار، پریمورسکی، کراسنویارسک، اوریول، تووا اور خاکاسیا شامل ہیں۔روسی شہروں میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کے حصول کے لیے شہریوں کو طویل قطاروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر مختلف کمپنیوں نے پٹرول کی خریداری پر حد مقرر کر دی ہے۔خودکار اسٹیشنز پر فی گاہک 40 لیٹر اور عام اسٹیشنز پر 60 لیٹر پٹرول کی حد مقرر کی گئی ہے۔ملک بھر میں فی گاڑی پیٹرول کی خریداری کو 30 لیٹر تک محدود کر دیا گیا ہے۔ماسکو اور گردونواح کے علاقوں میں ایندھن کی فروخت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔تاہم، ڈیزل کی فروخت پر نسبتاً کم پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔