امریکا کے ساتھ رابطہ قطر اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ہی ہے، عباس عراقچی

Wait 5 sec.

تہران (15 اگست 2026): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، اس کے ساتھ باقاعدہ بات چیت بھی نہیں ہو رہی۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا قطر اور پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ عباس عراقچی نے کہا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں جنگ کے خاتمے کا اعلان ہوا تھا، قابل توسیع جنگ بندی کا نہیں، جنگ کے خاتمے کے بعد حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کی خاطر 60 روز کی مہلت تجویز کی گئی تھی، امریکا نے ساٹھ روز کی مہلت کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں جنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔انھوں نے کہا ایران اور عمان کے تکنیکی مذاکرات کا تعلق آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے سمندری راستے سے ہے، عمان کے ساتھ راستے کا تعین اور آبنائے ہرمز کھولنا 2 الگ معاملات ہیں، ہرمز کھولنے کا فیصلہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔آبنائے ہرمز امریکی علاقہ، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر رد عملواضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے دیں گے۔ انھوں نے نیویارک میں ناساؤ کاؤنٹی پولیس اکیڈمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو شکست دینے کا عمل مکمل کرنے کے بعد، جسے بہت بری طرح شکست دی جا رہی ہے، بہت جلد میں آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دینے والا ہوں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدے دار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کے بیان کو مذاق قرار دے دیا ہے۔