ذات پر مبنی مردم شماری: سوالنامہ میں او بی سی زمرہ غائب، کانگریس کا اعتراض، سائنسی طریقے سے گنتی کا مطالبہ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس نے مردم شماری 2027 میں ذات سے متعلق سوالنامہ کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے او بی سی زمرے کو واضح طور پر شامل نہ کر کے ذات پر مبنی مردم شماری کو غیر مؤثر بنانے کی راہ ہموار کی ہے۔ کانگریس کے آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) او بی سی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر انل جے ہند اور اے آئی سی سی سکریٹری سُبھاشنی شرد یادو نے پیر کو نئی دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ڈاکٹر انل جے ہند نے کہا کہ وزارت داخلہ کے رجسٹرار جنرل آف انڈیا کے 14 اگست کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں مردم شماری کے سوالنامے میں ’شیڈیولڈ کاسٹ/شیڈیولڈ ٹرائب/کاسٹ‘ کا ذکر ہے، لیکن او بی سی زمرے کا الگ سے ذکر نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کا کھلا سوالنامہ نافذ کرنے سے مختلف علاقوں میں ایک ہی ذات کے متعدد نام، مترادفات اور مختلف ہجوں کے اندراج کا امکان بڑھے گا، جس سے قابل اعتماد اعداد و شمار تیار کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ او بی سی ملک کا ایک اہم سماجی و انتظامی زمرہ ہے اور سرکاری ملازمتوں، تعلیمی اداروں اور دیگر پالیسیوں میں اس کی شناخت پہلے سے موجود ہے۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت کو ذاتوں کی درست شناخت کے لیے مرکزی اور ریاستی فہرستوں، ماہرین اور سماجی تنظیموں کی مدد سے سائنسی کوڈنگ کا نظام اپنانا چاہیے۔کانگریس لیڈر نے تلنگانہ کے ذات سروے کو مثال بناتے ہوئے کہا کہ وہاں سماجی، اقتصادی، تعلیمی، روزگار اور سیاسی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی سوالنامہ تیار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ذاتوں کی شناخت کے لیے باقاعدہ فہرست اور کوڈنگ کا استعمال ضروری ہے، ورنہ ایک ہی برادری کے مختلف نام الگ الگ شمار ہو سکتے ہیں۔انہوں نے بڑھئی برادری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہریانہ میں اسے بڑھئی، جَنگڑ، جَنگڑا، کھاتی، دھیمان، سُتھار، ترکھان، رام گڑھیا اور وشوکرما جیسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف ریاستوں میں ایک ہی ذات کے نام اور ہجے بدلنے سے اعداد و شمار بکھر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی دستیاب ہونے کے باوجود ایسی خامیوں سے بچنے کے لیے بہتر نظام اپنانا ضروری ہے۔ڈاکٹر جے ہند نے کہا کہ کانگریس کا اصول ’جتنی آبادی، اتنا حق‘ ہے اور ذات کے درست اعداد و شمار سماجی انصاف، ریزرویشن اور پسماندہ طبقات کے اندر درجہ بندی کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ موجودہ طریقہ کار سے انتہائی پسماندہ طبقات کی اصل آبادی سامنے آنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔سبھاشنی شرد یادو نے کہا کہ حکومت کو مردم شماری میں ہر فرد کی ذات کی واضح شناخت اور شفاف طریقے سے گنتی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ محض نام، سرنیم یا ٹائٹل کی بنیاد پر ذات کی شناخت درست نہیں ہو سکتی، کیونکہ مختلف علاقوں میں ایک ہی نام کئی برادریاں استعمال کرتی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذاتوں کی درجہ بندی اور کوڈنگ کے واضح نظام کے ساتھ اعداد و شمار شفاف انداز میں جمع کیے جائیں۔ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی اس معاملے پر حکومت کے خلاف آئینی اور جمہوری طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے مردم شماری 2027 کے دوسرے مرحلے میں ذات سے متعلق معلومات جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس مرحلے میں ذات سے متعلق سوالات شامل ہوں گے، جبکہ پہلے مرحلے کے ہاؤس لسٹنگ شیڈول میں خاندان کے سربراہ کے لیے ایس سی/ایس ٹی/دیگر زمرے سے متعلق سوال موجود ہے۔