امریکا ایران جنگ کی قیمت جاپان چکا رہا ہے، لیکن کیسے ؟

Wait 5 sec.

ٹوکیو : امریکا ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہونے سے جاپان کی معیشت بھی شدید دباؤ کا سامنا کررہی ہے۔جاپانی حکومت نے حالیہ بجٹ میں مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 19ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی منظوری دی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملوں کے بعد جاپان کے لیے توانائی کی فراہمی، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے مسائل مزید سنگین ہوگئے ہیں۔جاپان اپنی خام تیل کی تقریباً تمام ضروریات مشرقِ وسطیٰ سے پوری کرتا ہے جس کی ترسیل بڑے پیمانے پر آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے۔جنگ کے آغاز کے بعد اس اہم سمندری گزرگاہ میں تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی، جس سے جاپان کی توانائی سلامتی پر براہِ راست دباؤ بڑھ گیا۔رپورٹ کے مطابق مئی 2026 سے میرین انٹیلی جنس فرم ’لائیڈ لسٹ‘ نے مغربی اتحادی ممالک سے تعلق رکھنے والے تیل بردار بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی سرگرمیوں میں تقریباً مکمل تعطل ریکارڈ کیا۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے مبینہ طور پر گزرنے والے بحری جہازوں سے غیر رسمی فیس وصول کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جو فی جہاز 20 لاکھ ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔ یہ ادائیگی چینی یوان، بٹ کوائن یا اسٹیبل کوائنز میں طلب کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔جاپان کے لیے صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ ملک کے پاس توانائی کے مقامی ذخائر انتہائی محدود ہیں، خام تیل کی ترسیل میں رکاوٹ سے صنعت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور گھریلو توانائی کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔بینک آف جاپان نے مارچ کے مالیاتی جائزے میں سالانہ اقتصادی شرحِ نمو کا تخمینہ کم کرکے 0.5 فیصد کردیا، جبکہ افراطِ زر کی پیش گوئی بڑھا کر 2.8 فیصد کردی۔ماہرین کے مطابق سست معاشی نمو اور بڑھتی مہنگائی کا یہ امتزاج جاپان کے مرکزی بینک کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کرتا ہے۔نومورا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے چیف اکانومسٹ تاکاہیدے کیوچی کے ماڈل کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت جزوی طور پر متاثر رہتی ہے تو خام تیل کی قیمت تقریباً 87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔اس صورت میں جاپان کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 0.18 فیصد کمی اور صارفین کی قیمتوں میں تقریباً 0.3 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔جنگ کے معاشی اثرات جاپانی ین پر بھی نمایاں ہوئے ہیں امریکی ڈالر کے مقابلے میں ین تقریباً 158 سے 159 کی سطح تک پہنچ گیا ہے جو تقریباً 20 ماہ کی کم ترین سطح قرار دی گئی ہے۔اس کے علاوہ خطے کی جنگی صورتحال کے سبب توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کے محفوظ اثاثوں کی جانب رجحان نے جاپانی کرنسی پر مزید دباؤ ڈالا۔ین کرنسی میں شدید اتار چڑھاؤ کے بعد جاپانی وزیر خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے عندیہ دیا کہ حکومت ضرورت پڑنے پر کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کرسکتی ہے۔جاپانی اسٹاک مارکیٹ بھی اس دباؤ سے محفوظ نہ رہ سکی۔ مارچ کے اواخر میں نکئی 225 ایک ہی روز میں 3.3 فیصد گرگیا اور دو ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔مختلف کمپنیوں کے حصص میں وسیع پیمانے پر کمی دیکھی گئی، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی کئی ماہ کی مسلسل خریداری کے بعد جاپانی حصص کے فروخت کنندہ بن گئے۔اس بحران کے اثرات جاپانی عوام کے روزمرہ اخراجات تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ مارچ کے وسط میں آساہی شمبن کے ایک سروے کے مطابق 90 فیصد جواب دہندگان نے ایران جنگ کے جاپانی معیشت پر اثرات کے حوالے سے کسی نہ کسی درجے کی تشویش کا اظہار کیا۔یوں ہزاروں کلومیٹر دور جاری جنگ اب جاپان کے لیے محض خارجہ پالیسی یا عالمی سیاست کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ تیل کی قیمت، مہنگائی، ین کی قدر اور گھریلو بجٹ تک پہنچنے والا معاشی چیلنج بن چکی ہے۔