ناول نگار جیری فالادے انتہائی خوش تھے کہ انھیں ایک کرائم تھرلر ناول کے لیے دوسروں کے برعکس ایک بہت ہی اچھا معاہدہ مل گیا تھا، لیکن پھر اچانک اس معاہدے کو یہ کہہ کر ختم کر دیا گیا کہ ناول اے آئی سے لکھوایا گیا ہے۔نائجیرین مصنف جیری اڈیڈیو فالادے (Jerry Adedayo Falade) کے پہلے کرائم ناول Call Me, I’ll Hide the Body کا کروڑوں روپے مالیت کا اشاعتی معاہدہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ممکنہ استعمال کے تنازع کے بعد ختم ہو گیا ہے، تاہم مصنف نے ناول لکھنے میں AI کے استعمال کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ساتھ نسلی تعصب برتا جا رہا ہے۔نائجیرین ناول نگار جیری فالادےفالادے کا ناول رواں سال امریکی اشاعتی دنیا میں غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا تھا اور امریکا میں ’’14 فریقوں کے درمیان ہونے والی مسابقتی بولی‘‘ کے بعد اس ناول کو پبلشر منوٹور (Minotaur) نے حاصل کیا تھا۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق امریکی معاہدے کی مالیت 2.4 ملین ڈالر تک تھی، جب کہ برطانیہ میں بھی ناول کے حقوق کے لیے 6 اور 7 ہندسوں کی رقم کی پیشکشیں سامنے آئی تھیں۔ اس کے علاوہ فلم اور ٹیلی وژن حقوق میں بھی دل چسپی پیدا ہوئی تھی۔ناول کی اشاعت 2028 میں متوقع تھی، تاہم 29 جولائی 2026 کو صورت حال اس وقت بدل گئی جب مصنف کے ایجنٹس نے مسودہ اشاعتی اداروں کو پیش کرنے کا عمل روک دیا۔ فالادے کے امریکی ایجنٹ مارک جیرالڈ کی ایجنسی یوروپا کونٹینٹ اور برطانیہ میں ان کی نمائندگی کرنے والی ایجنٹ سینڈی ہاجمن نے بعد ازاں مصنف سے اپنے تعلقات ختم کر دیے۔اصل تنازع کیا تھا؟فالادے کے ایجنٹوں نے ناشرین کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا کہ انھیں یقین نہیں رہا کہ ناول کا مسودہ ابتدا سے تکمیل تک مکمل طور پر انسانی تخلیق تھا۔ ایجنسی کے مطابق مسودہ ابتدا میں غیر معمولی طور پر متاثر کن سمجھا گیا تھا اور اعلیٰ درجے کے اشاعتی ماہرین اس سے متاثر ہوئے تھے، لیکن بعد میں وہ اس بات کی تصدیق کرنے کے قابل نہیں رہے کہ مسودے کی تیاری میں AI استعمال نہیں ہوئی۔ایجنٹ مارک جیرالڈ کے مطابق، اشاعتی عمل کے دوران ایک ایڈیٹر نے مسودے میں ممکنہ اے آئی استعمال کے آثار کے بارے میں سوال اٹھایا۔ ایجنسی نے اس وقت اے آئی ڈیٹیکشن سافٹ ویئر استعمال کرنے کی بہ جائے فالادے کی وضاحت پر اعتماد کیا، کیوں کہ ایجنٹ کے مطابق مصنف اس وقت اپنی وضاحت میں ’’واضح اور قابلِ اعتبار‘‘ تھے۔تاہم 29 جولائی کی ایک ملاقات کے بعد ایجنسی کے مطابق فالادے کی وضاحت کے بعض پہلو تبدیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں ایجنسی نے کہا کہ وہ مصنف پر درکار مکمل اعتماد برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اس کے بعد مسودہ واپس لے لیا گیا۔اہم بات یہ ہے کہ دستیاب معتبر رپورٹنگ میں ایسا کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ فالادے نے پورا ناول یا اس کا کوئی بڑا حصہ اے آئی سے لکھوایا تھا۔ خود فالادے مسلسل اس الزام کی تردید کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس دعوے کی حمایت میں 2021 کے پیغامات بھی دکھائے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس فکشن پر کام کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنے پرانے تحریری مواد کا کچھ حصہ بھی عوامی طور پر پیش کیا ہے۔فالادے کا مؤقففالادے نے کہا ہے کہ انھوں نے ناول خود لکھا ہے۔ ان کے مطابق کتاب کے کردار، کہانی، مناظر، مزاح، ساخت اور اسلوب ان کی اپنی تخلیق ہیں، اور ان کے پاس پرانے مسودات، تحریری نوٹس اور دیگر مواد موجود ہے جو کتاب کے ارتقا کو دستاویزی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔انھوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف اے آئی کے الزامات نسلی تعصب سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ فالادے کے مطابق اس سال بڑی اشاعتی ڈیل حاصل کرنے والے سیاہ فام مصنفین کے کام کو اے آئی کے حوالے سے خاص طور پر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، جب کہ بعض سفید فام مصنفین نے اپنی تحریری سرگرمیوں میں اے آئی کے استعمال کا کھلے عام ذکر کیا ہے اور انھیں اسی نوعیت کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔فالادے نے اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کی قابلِ اعتماد حیثیت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مسودہ متعدد ابتدائی قارئین، دوسرے مرحلے کے قارئین، مدیران اور حصولِ اشاعت کی ٹیموں سے گزر چکا تھا۔ ان کے مطابق اگر مسودے میں واقعی اے آئی سے تخلیق کیے جانے کے نمایاں آثار موجود ہوتے تو اتنے تجربہ کار اشاعتی ماہرین کا انھیں محسوس نہ کرنا مشکل امر ہے۔کیا AI detector نے فالادے کو پکڑا تھا؟یہ معاملہ بھی ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے۔ پبلشرز ویکلی کے مطابق بعض صنعتی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ خود انھوں نے مسودے کو Pangram نامی اے آئی چیکر سے گزارا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ فالادے کے ایجنٹوں نے اسی بنیاد پر فیصلہ کیا تھا۔ فالادے نے کہا کہ اگر ان کی اجازت کے بغیر ان کا مکمل مسودہ کسی بڑے لسانی ماڈل کو دیا گیا تھا تو یہ ان کے حقوقِ تصنیف (کاپی رائٹ) کے حوالے سے بھی مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔ناشر اور ایجنٹ کے لیے مسئلہ کیا تھا؟اس معاملے میں بنیادی مسئلہ محض یہ نہیں تھا کہ اے آئی استعمال ہوا یا نہیں، بلکہ اعتماد، مصنفیت (آتھر شپ)، حقوقِ تصنیف اور معاہداتی ذمہ داری کا تھا۔امریکن ایسوسی ایشن آف لٹریری ایجنٹس (AALA) کی صدر ریجینا بروکس نے کہا کہ مصنف اور ایجنٹ کا تعلق اعتماد اور دیانت پر قائم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مصنف کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ واضح کرے کہ مسودہ کیسے تیار ہوا اور اس میں اے آئی جنریٹیو کس حد تک استعمال ہوئی۔ اگر یہ معلومات چھپائی جائیں تو خطرہ صرف مصنف تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس ایجنٹ تک بھی پہنچتا ہے جو اپنے پیشہ ورانہ نام اور فیصلے کی بنیاد پر مسودہ ناشر کے سامنے پیش کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فالادے کے معاملے میں ایجنسی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کتاب اچھی تھی یا بری۔ اس کے برعکس، ایجنٹ مارک جیرالڈ نے کتاب کو انتہائی اعلیٰ معیار کا قرار دیا اور کہا کہ وہ اور دیگر ماہرین اس سے ’’محبت‘‘ کرنے لگے تھے۔ مسئلہ یہ بن گیا کہ ایجنسی اس کی تخلیقی اصل کی تصدیق کرنے میں خود کو غیر مطمئن محسوس کرنے لگی۔24 لاکھ ڈالر کا معاہدہ کیوں اہم تھا؟فالادے کا معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ محض کسی نئے مصنف کی معمولی اشاعتی ڈیل نہیں تھی۔ ایک غیر معروف پہلی بار ناول لکھنے والے مصنف کے مسودے نے اشاعتی صنعت کے متعدد بڑے کھلاڑیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، 14 فریقوں کے درمیان بولی ہوئی اور امریکی معاہدہ تقریباً 24 لاکھ ڈالر تک پہنچا۔اسی دوران فلم اور ٹیلی وژن کے حقوق میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی۔ تاہم AI کے تنازع کے بعد یہ تمام امکانات بھی شدید متاثر ہوئے۔اے آئی اور ادبی مصنفیت کا بڑا سوالفالادے کا معاملہ اب ایک فرد کی کتابی ڈیل سے آگے بڑھ کر پوری اشاعتی صنعت کے لیے ایک بنیادی سوال بن چکا ہے کہ کسی کتاب کو ’’انسانی تخلیق‘‘ قرار دینے کے لیے کس نوعیت کا ثبوت کافی ہوگا؟وال اسٹریٹ جرنل نے حالیہ تجزیے میں فالادے کے معاملے کو اشاعتی صنعت میں پیدا ہونے والی وسیع تر بے یقینی کی مثال قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بڑے اشاعتی معاہدوں کا اے آئی کے شبہات کی بنیاد پر اچانک ختم ہونا مصنفیت، مصنف اور ناشر کے تعلق اور پوری صنعت کے مستقبل کے بارے میں بنیادی سوالات پیدا کر رہا ہے۔دوسری جانب، اشاعتی صنعت میں اے آئی کے استعمال کے حوالے سے کوئی یکساں اور واضح معیار ابھی تک موجود نہیں۔ بڑی اشاعتی کمپنیاں ایک طرف اے آئی کے ممکنہ تجارتی فوائد سے واقف ہیں اور دوسری طرف حقوقِ تصنیف، مصنفیت اور انسانی تخلیق کے سوالات سے دوچار ہیں۔ اسی وجہ سے فالادے جیسے معاملات میں یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ شبہ، ثبوت اور الزام کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے۔فی الحال جیری فالادے اے آئی سے ناول لکھنے کے الزام کو مسترد کرتے ہیں، ان کے خلاف اے آئی استعمال کا کوئی حتمی عوامی ثبوت سامنے نہیں آیا، اور Call Me, I’ll Hide the Body کی اشاعتی ڈیل ختم ہو چکی ہے۔ تاہم فالادے نے کہا ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے اپنے پاس موجود پرانے مسودات اور دیگر شواہد پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔