تل ابیب(20 اگست 2026): اسرائیلی فوج نے طویل تاخیر کے بعد بالآخر اعتراف کیا ہے کہ 2024 میں غزہ میں پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب اور اس کے خاندان کو لے جانے والی گاڑی پر اس کے فوجیوں نے فائرنگ کی تھی۔رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی تحقیقات شاذ و نادر ہی کسی نتیجے یا سزا تک پہنچتی ہیں۔رائٹرز کے مطابق ہند رجب کی ہلاکت غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکت کے ان انتہائی ہائی پروفائل واقعات میں شامل ہے جس نے پوری دنیا کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ یہ دلخراش واقعہ 2023 میں جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران پیش آیا۔ہند رجب کئی گھنٹوں تک تباہ حال گاڑی میں پھنسی رہی اور موبائل فون پر فلسطینی امدادی کارکنوں سے مسلسل مدد کی بھیک مانگتی رہی، جبکہ اس کی خالہ، خالو اور تین کزن گاڑی میں پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔بچی کو بچانے کے لیے فلسطینی ہلال احمر کی ایک ایمبولینس روانہ کی گئی، لیکن جیسے ہی وہ جائے وقوعہ پر پہنچی، امدادی کارکنوں کا رابطہ ہند اور خود ایمبولینس کے عملے سے منقطع ہوگیا۔ واقعے کے 12 دن بعد ہند، اس کے رشتہ داروں اور دو امدادی کارکنوں کی لاشیں اس علاقے سے برآمد ہوئیں۔فوجی مؤقف میں تبدیلی اور تحقیقات کا اعلانابتدا میں اسرائیلی فوج اس بات سے صاف انکار کرتی رہی کہ اس کے فوجی اس علاقے میں موجود تھے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ تاہم، مہینوں پر محیط اندرونی تحقیقات کے بعد اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ اس کے فوجیوں نے بچی کی گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ ان کی طرف بڑھ رہی تھی، اور اس کے بعد بچی کو بچانے کے لیے آنے والی ہلال احمر کی ایمبولینس پر بھی گولہ داغا گیا۔اسرائیلی فوج کی بیان کے مطابق ایمبولینس کی نقل و حرکت میں رابطہ کاری سے متعلق مبینہ ناکامیوں کا جائزہ لینے کے بعد اس واقعے کی باضابطہ مجرمانہ تحقیقات شروع کی جا رہی ہیں۔اس کے علاوہ مارچ 2025 میں 15 امدادی اور طبی کارکنوں کی ہلاکت کے معاملے پر بھی فوج مجرمانہ تحقیقات کرے گی۔ دوسری طرف، اپریل 2024 میں ورلڈ سینٹرل کچن کے سات امدادی کارکنوں کی ہلاکت سمیت تین دیگر اہم واقعات کے بارے میں فوج کا کہنا ہے کہ ان میں مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ملی۔عالمی ردعمل اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحفظاتہند رجب کی المناک موت نے عالمی سطح پر شدید غصے اور افسوس کو جنم دیا تھا۔ اس واقعے پر بننے والی ایک دستاویزی فلم نے وینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ حاصل کیا اور اسے اکیڈمی ایوارڈ (آسکر) کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔متاثرہ خاندان اور انسانی حقوق کے اداروں کا ردعمل اس اعلان پر مایوس کن رہا ہے۔ ہند کی دادی نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کا خاندان اسرائیلی عدالتی نظام پر ذرہ برابر بھی اعتماد نہیں کرتا، اور وہ انصاف کے لیے مکمل طور پر عالمی برادری اور بین الاقوامی انصاف کے نظام کی طرف دیکھ رہے ہیں۔اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ’یش دین‘کے محقق ڈین اوون کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی کے دوران فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر ہونے والی فوج کی اندرونی تحقیقات میں صرف انتہائی قلیل معاملات فردِ جرم یا سزاؤں تک پہنچ پائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ بھی ان ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔انسانی جانی نقصان کے اعداد و شماراسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کی کارروائیوں کا ہدف صرف عسکریت پسند ہیں، لیکن اس طویل جنگ کے دوران غزہ میں بڑے پیمانے پر شہری شہید ہوئے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے جاری اس جنگ میں اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں خواتین، بچے، ڈاکٹر، صحافی اور امدادی کارکن شامل ہیں۔اگرچہ گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد بڑے پیمانے پر جاری لڑائی میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، تاہم اسرائیلی حملوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے اب بھی جاری ہے۔The Voice of Hind Rajab: nominated for Oscar in Best International Feature categoryواضح رہے کہ ہند رجب کے معاملے میں مجرمانہ تحقیقات کا آغاز اگرچہ ایک طویل عرصے بعد سامنے آیا ہے، لیکن اصل انصاف کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا اس کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جاتا ہے یا یہ کارروائی بھی محض خانہ پُری ثابت ہوتی ہے۔