بانگوئی(20 اگست 2026): وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) کے مغربی علاقے زامبوئی میں کیمرون کی سرحد کے قریب سونے کی ایک کان بیٹھنے کے ہولناک حادثے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔کیمرون کے سرحدی قصبے گاروآ بولائی کے میئر آدمو عبدون نے کے مطابق اب تک ملبے سے 107 بے جان لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کان کے مقام پر ایک بڑی ڈھلوان اچانک وہاں موجود لوگوں کے ہجوم پر آگری، جبکہ دیگر افراد اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے نظر آئے۔حادثے کے چشم دید ایک مزدور نے بتایا کہ زمین مکمل طور پر دھنس گئی تھی جس نے لوگوں کو اپنے نیچے دبا لیا، اور تاحال کچھ لوگ ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔یمرون کے مشرقی خطے کے گورنر گریگوری ایمونگو نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم تین کا تعلق کیمرون سے ہے، جن کی لاشیں تدفین کے لیے ان کے آبائی وطن روانہ کی جارہی ہے، جبکہ زخمی ہونے والوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔مقامی حکام اور بیبووا کے پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ کان کے اندر موجود کئی زیرِ زمین سرنگوں کے بیٹھنے کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا ہے۔مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ اس خطے میں دستی کان کنی (آرٹیزینل مائننگ) معاش کا ایک بڑا ذریعہ ہے، تاہم ناقص حفاظتی انتظامات، غیر محفوظ کانوں اور بارشوں کے باعث زمین کمزور ہونے کی وجہ سے یہاں اس طرح کے حادثات اور تودے گرنے کے واقعات معمول بنے ہوئے ہیں۔