نیو جرسی (16 اگست 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024 کی یہ تصویر اب وسط مدتی انتخابات میں خود ٹرمپ اور ریپبلکنز کے لیے دردِ سر بن گئی ہے، جس میں صدر گروسری اشیا کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔روئٹرز کے مطابق ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیموکریٹس کے دورِ حکومت میں مہنگائی کو نمایاں کرنے کے لیے نیو جرسی میں گروسری اشیا کے ساتھ کی گئی پریس کانفرنس کو دو سال گزر چکے ہیں، لیکن ان کی جانب سے قیمتیں کم کرنے کے وعدے کے باوجود اشیائے خورونوش کی قیمتیں اب بھی بڑھ رہی ہیں۔وعدے اور حقیقت کے درمیان یہ فرق اب نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔15 اگست 2024 کو اپنے بیڈ منسٹر گالف کلب میں پھلوں، گوشت، سیریل، دودھ اور دیگر گھریلو ضروری اشیا سے لدی میزوں کے درمیان کھڑے ہو کر ٹرمپ نے گروسری کی قیمتوں میں تیز اضافے کا ذمہ دار بائیڈن انتظامیہ کو قرار دیا تھا۔امریکا ایران جنگ کی قیمت جاپان چکا رہا ہے، لیکن کیسے ؟اس موقع پر ٹرمپ کے مرکزی وعدے کو بھی نمایاں کیا گیا تھا کہ صرف وہی مہنگائی کو قابو میں لا سکتے ہیں اور زندگی گزارنے کی لاگت کم کر سکتے ہیں۔لیکن دو سال بعد، پٹرول اور گروسری کی بلند قیمتیں اب بھی امریکی گھرانوں کے بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور زندگی گزارنے کی لاگت امریکی ووٹروں کے لیے سب سے اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ روئٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق، تقریباً ایک دہائی میں پہلی مرتبہ ووٹرز اس سوال پر کہ معیشت کو بہتر طریقے سے کون سنبھال سکتا ہے، ریپبلکنز کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کو معمولی برتری دے رہے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ جس مہنگائی کو ٹرمپ ڈیموکریٹس کا فریب قرار دے کر مسترد کر دیا کرتے تھے اب بھی وہ امریکیوں کے لیے روزمرہ کا بوجھ بنی ہوئی ہے۔دو سال قبل ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں جن گروسری اشیا کی نمائش کی تھی، دل چسپ بات یہ ہے کہ ان 26 اقسام کی گروسری کی قیمتوں میں (بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق) ان کی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے 19 ماہ کے دوران 3.4 فی صد اضافہ ہو گیا ہے۔کافی، گائے کے گوشت اور سیب کی قیمتوں میں اضافے نے انڈوں اور مکھن سمیت بعض اشیا کی قیمتوں میں کمی کے اثر کو بھی زائل کر دیا ہے۔