عدن (16 اگست 2026): حوثی باغیوں نے اپنے ہی ملک کی بندرگاہ المخا پر میزائلوں کی بارش کر دی، حملوں کے بعد بندرگاہ کو بند کر دیا گیا۔المخا پورٹ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں بندرگاہ کو 25 سے زائد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ حوثی باغیوں کے حملے میں 8 یمنی باشندے بھی جاں بحق ہوئے اور تقریباً 16 ملین ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔المخا پورٹ نے حالیہ حملوں کے بعد تجارتی اور بحری سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں سے یمن میں بڑے پیمانے پر جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق یمن کی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے حملے کا سخت جواب دیا جائے گا، مسلح افواج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ فوج حوثیوں کو شہری تنصیبات یا یمنی مفادات کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی۔ترجمان کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ کیوں دیا؟ ایرانی سفارت خانے کا دعویٰانھوں نے کہا جمعہ کی شام مخا بندرگاہ پر بیلسٹک میزائلوں سے کیا جانے والا حملہ سزا کے بغیر نہیں رہے گا، بلکہ اس کا جواب کیے گئے جرائم کی شدت کے عین مطابق مؤثر ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حوثی خطرے کا اس انداز میں مقابلہ کیا جائے گا جس سے یمن کی سلامتی اور خودمختاری اور اس کے شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔خیال رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم نے حالیہ عرصے میں یمنی حکومت کے اہداف پر حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں فوجی اور شہری تنصیبات کے علاوہ باب المندب آبنائے کے اردگرد موجود بحری جہاز بھی شامل ہیں۔