سب سے کم عمر سیاہ فام کیمبرج پروفیسر جیسن آرڈے کی اچانک موت واقع

Wait 5 sec.

لندن (16 اگست 2026): کیمبرج کے پروفیسر جیسن آرڈے، جن کے علمی ریکارڈ پر سوالات اٹھائے گئے تھے، مردہ پائے گئے ہیں، ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انھیں ’’مسلسل اذیت‘‘ کا سامنا تھا۔جیسن آرڈے کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرِ تعلیم تھے اور سرقہ کے الزامات کے بعد انھوں نے چند دن قبل ہی منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا، اب جمعہ کو وہ اچانک مردہ پائے گئے، ان کے اہل خانہ نے جیسن کو ایک ’’نرم مزاج انسان‘‘ قرار دیا ہے جنھیں مسلسل اذیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق 41 سالہ جیسن آرڈے کیمبرج یونیورسٹی کے اب تک کے سب سے کم عمر سیاہ فام پروفیسر تھے اور ایک معروف عوامی شخصیت بھی تھے۔ لیکن گزشتہ ماہ اُس وقت ان کی شہرت کو اچانک شدید دھچکا لگا، جب ان کی علمی کامیابیوں اور فلاحی کاموں کے بارے میں سخت سوالات اٹھائے جانے لگے۔جیسن 37 برس کی عمر میں 2023 میں کیمبرج یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر تعینات ہوئے تھے، اور رواں ہفتے ہی ان کی آپ بیتی Great and Unfortunate Things شائع ہوئی ہے۔آرڈے برطانوی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے سیکڑوں مضامین کا موضوع بن گئے، جن میں ان کی ساکھ پر شبہات ظاہر کیے گئے اور ان کے کردار کو بدنام کیا گیا۔ان کی موت کی خبر نے بڑے پیمانے پر صدمے کی کیفیت پیدا کر دی۔ انhیں خراجِ عقیدت پیش کرنے والے بہت سے لوگوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ساتھ کیا جانے والا سلوک نہ صرف غیر مناسب تھا بلکہ ممکنہ طور پر کھلے نسل پرستانہ رویے کے مترادف تھا۔سارہ شریف کے والد پر جیل میں قاتلانہ حملہ کرنے والے قیدیوں پر فردِ جرم عائدآرڈے کے ایک نمایاں حامی، سماجی کارکن پیٹرک ورنن نے ان کے خاندان کے لیے ’’جنازے، یادگاری تقریب اور متعلقہ خاندانی اخراجات میں مدد‘‘ کے مقصد سے ’گو فنڈ می‘ مہم شروع کی۔ ہفتے کی شام تک اس مہم میں 37,000 ڈالر سے زیادہ جمع ہو چکے تھے۔برطانیہ میں تعصب کے خلاف کام کرنے والی تنظیم اسٹینڈ اپ ٹو ریسزم نے جیسن آرڈے کی یاد میں لندن کے ٹرافلگر اسکوائر میں ایک آئندہ ہونے والی دعائیہ/یادگاری تقریب کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نے ان کے اسکینڈل سے متعلق ذرائع ابلاغ کی کوریج کو ’’نسل پرستانہ جادوگرنی کا شکار‘‘ قرار دیا، جسے اس کے مطابق انتہائی دائیں بازو نے منظم کیا تھا۔برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے ہفتے کے روز آرڈے کی موت کو ’’کئی سطحوں پر ایک المیہ‘‘ قرار دیا۔ اہلِ خانہ نے کہا ’’جیسن کو کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر کا عہدہ قبول کرنے کے بعد تین سال سے زیادہ عرصے تک ایک ایسی مسلسل اذیت کی مہم کا سامنا رہا، جسے ان لوگوں نے چلایا جو انھیں کمزور کرنے کی اپنی کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنا چاہتے تھے۔‘‘انھوں نے کہا غلط معلومات کی یہ مہم جیسن کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گئی، کیوں کہ وہ ایک نرم مزاج انسان تھے اور ہمیشہ ہر شخص میں اچھائی دیکھنا چاہتے تھے۔ آرڈے کے خاندان نے کہا ہم اس حیرت انگیز والد، شریکِ حیات، بھائی، ماموں/چچا اور بیٹے کو کھو دینے پر صدمے میں ہیں۔واضح رہے کہ کیمبرج یونیورسٹی نے ابتدا میں آرڈے کا دفاع کیا تھا، لیکن جیسے جیسے قیاس آرائیاں بڑھتی گئیں، اس ممتاز ادارے کی حمایت کمزور پڑتی گئی اور اسی ماہ کے آغاز میں یونیورسٹی نے ایک انٹرنل انکوائری شروع کر دی۔ اگرچہ یونیورسٹی نے کہا تھا کہ تحقیقات کے دوران آرڈے اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے، لیکن آرڈے نے فوراً استعفیٰ دے دیا۔آرڈے نے اگست کے آغاز میں اپنے کھلے استعفیٰ نامے میں کہا کہ اگرچہ تنقید اکیڈمک زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہے لیکن میں نے جس صورتِ حال کا سامنا کیا ہے وہ علمی اختلاف سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔ مسلسل الزامات، قیاس آرائیاں اور عوامی تبصرے مجھ پر اور ان لوگوں پر، جن سے میں محبت کرتا ہوں، گہرا اثر ڈال چکے ہیں۔