’ڈرائی اسٹیٹ‘ گجرات میں ایک بار پھر نقلی شراب نے کئی لوگوں کی جان لے لی ہے۔ بھاؤنگر ضلع میں زہریلی شراب پینے کے باعث اب تک 7 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ اس معاملے میں 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ 21 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہے، جن کے اوپر نقلی شراب بنانے اور فروخت کرنے کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ گجرات ’ڈرائی اسٹیٹ‘ ہے، جہاں شراب تیار کرنے، فروخت کرنے اور استعمال کرنے پر پابندی ہے۔پونے میں زہریلی شراب سے 12 افراد کی موت، ایک ہی خاندان کے 3 افراد شاملبھاؤنگر کے سپرنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) نتیش پانڈے نے خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات چیت میں بتایا کہ زہریلی شراب کا استعمال کرنے والے 25 سے 28 لوگ زیر علاج ہیں۔ اب تک 7 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 4 پولیس اہلکاروں کو اس معاملے میں معطل کیا جا چکا ہے۔ 19 اگست کو اس معاملے میں ورتیج پولیس اسٹیشن کے پاس ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ یہ پولیس اسٹیشن گھوگھا تعلقہ کے کھرکڑی گاؤں میں واقع ہے۔واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے اجین کے کھرکری سے اور گجرات کے بھاؤنگر سے اب تک 21 ملزمان کی شناخت ہو چکی ہے۔ ان تمام ملزمان کے خلاف معاملہ درج کیا جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق اس شراب کو اجین سے لایا جاتا تھا۔ اس کے بعد اسے بھاؤنگر اور آس پاس کے علاقے میں لوگوں کے درمیان تقسیم کرنے سے قبل اس میں ملاوٹ کی جاتی تھی۔ جن زہریلی شراب کی بوتلوں کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان میں ایک پر کمپنی کا لیبل بھی لگا ہوا تھا۔پولیس اب پورے سپلائی چین کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے تحت یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ آخر کیسے لوگوں تک شراب پہنچائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس یہ بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ شراب کے بچے ہوئے باقی حصے کو کیسے اور کہاں پر بھیج دیا جاتا تھا۔ اس سلسلے میں کیمیکل جانچ کی رپورٹ کے حوالے سے بھی ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ دوسری جانب پولیس کی تفتیش کے دوران ضبط کی گئی رائل اسٹیج کی بوتل میں بڑی مقدار میں میتھانول کا استعمال بھی پایا گیا، جس کا تذکرہ ایف آئی آر میں بھی کیا گیا ہے۔ اس شراب میں 38.59 فیصد میتھانول اور 0.94 فیصد ایھتنول ملا ہوا تھا۔قابل ذکر ہے کہ یہ پورا معاملہ تب سامنے آیا جب شراب کا استعمال کرنے کے بعد لوگوں کو الٹی اور سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی۔ اس کے بعد سبھی کو بھاؤنگر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ جن لوگوں نے زہریلی شراب کا استعمال کیا تھا، ان تمام افراد کے بیانات اور ان سے متعلق طبی رپورٹس کو ایف آئی آر میں درج کیا گیا ہے۔ ’دی اسٹیٹ مانیٹرنگ سیل‘ (ایس ایم سی) اب پورے معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ تحقیقات کے تحت افسران اس زہریلی شراب سے منسلک پورے عمل کے بارے میں پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے ذریعہ یہ شراب عام لوگوں تک پہنچائی جاتی تھی۔