متھرا میں ’شری کرشن جنم بھومی‘ مندر معاملے میں عرضی گزار اور ہندووادی لیڈر پھلاہاری مہاراج نے عید گاہ کمیٹی کو خط لکھ کر مسلم فریق کو شاہی عید گاہ کی 2.25 ایکڑ زمین کے بدلے میں 20 ایکڑ زمین دینے کی پیشکش کی ہے۔ پھلاہاری مہاراج نے کہا ہے کہ اگر مسلم فریق عدالت کے باہر سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔’پلیسز آف ورشپ ایکٹ معاملہ میں مرکزی حکومت قصداً جواب داخل نہیں کر رہی‘، متھرا شاہی مسجد عیدگاہ کمیٹی کا سنگین الزامواضح رہے کہ ’شری کرشن جنم بھومی‘ تنازعہ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ہندو فریق اور مسلم فریق آپس میں بیٹھ کر متھرا لوک عدالت میں اپنا تنازعہ حل کر سکتے ہیں۔ اس دوران ہندو فریق تو لوک عدالت میں حاضر ہوا تھا لیکن مسلم فریق کی جانب سے کوئی بھی عدالت میں نہیں آیا، جس کی وجہ سے عدالت کوئی بھی فیصلہ نہیں دے سکی۔ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق پھلاہاری مہاراج نے عید گاہ کمیٹی کو ایک خط لکھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم فریق سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو 20 ایکڑ زمین میوات میں دینے کو تیار ہیں اور مسجد کی تعمیر میں جو بھی خرچ آئے گا اس کو بھی دینے کے لیے تیار ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آپ بھائی چارہ نبھانے کی بات کرتے ہیں اس لیے ہم بھی بھائی چارہ نبھانے کے لیے تیار ہیں۔اپنے خط میں پھلاہاری مہاراج لکھتے ہیں کہ ’’میوات میں مسلم طبقہ کی تعداد زیادہ ہے، آپ وہاں پیار و محبت سے نماز ادا کر سکتے ہیں۔ برج بھومی جہاں بھگوان شری کرشن کا جنم ہوا وہاں پر شری کرشن کے عقیدت مندوں کی تعداد زیادہ ہے تو ہم لوگ یہاں پر پیار و محبت سے اپنے کرشن کنہیا کو ماکھن مشری کا بھوگ لگانے چاہتے ہیں، اپنے بھگوان کا بھجن کیرتن کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے مسلم فریق سے کہا کہ اگر آپ ثالثی کے لیے اکھلیش یادو کو شامل کرنا چاہتے ہیں تو بھی ہم کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ متھرا محبت کا شہر ہے، بھائی چارہ نبھانے میں مسلم فریق کو ہمارا تعاون کرنا چاہیے۔