نئی دہلی: کانگریس نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی نظریاتی تاریخ اور مودی حکومت کی پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہوئے سخت سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی آر ایس ایس سے متعلق حالیہ تنقید کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹو نیشن تھیوری‘ (دو قومی نظریہ) آر ایس ایس کی تاریخ کا حصہ رہی ہے اور اس کے نظریاتی رہنماؤں نے اسے فروغ دیا۔پون کھیڑا نے کہا کہ ملک کی تاریخ سے متعلق حقائق کو بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے، تاہم انہوں نے آر ایس ایس کی تاریخ اور اس کے نظریے سے متعلق متعدد واقعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریاتی رہنماؤں نے ’ٹو نیشن تھیوری‘ کو آگے بڑھایا۔کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بھارت چھوڑو تحریک کے دوران شیامہ پرساد مکھرجی کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے تحریری طور پر انگریزوں کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے آر ایس ایس پر نیتاجی سبھاش چندر بوس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے، ترنگے کی مخالفت کرنے اور آئین کی نقول جلانے جیسے الزامات بھی عائد کیے۔پون کھیڑا نے کہا کہ کانگریس کے پاس آر ایس ایس کے خلاف تاریخ سے متعلق کئی مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آر ایس ایس بار بار یہ سننا چاہتا ہے کہ وہ ’ملک مخالف‘ ہے تو کانگریس بھی یہی کہے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی پر راہل گاندھی کے تبصرے سے متعلق سوال پر پون کھیڑا نے کہا کہ کانگریس آخر کس کی تنقید کرے۔ انہوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو ’کٹھ پتلی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم خود ہر کامیابی کا سہرا لیتے ہیں اور غیر ملکی رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہیں، اس لیے سوال بھی انہی سے کیے جائیں گے۔پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ ٹیرف، روسی تیل سمیت مختلف معاملات پر حکومت امریکہ اور چین کے سامنے جھک رہی ہے۔ انہوں نے ماضی کے ان دعوؤں پر بھی سوال اٹھایا جن میں کہا جاتا تھا کہ وزیر اعظم مودی نے جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب وہ کردار کہاں نظر آتا ہے۔کانگریس لیڈر نے وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف وزیر اعظم بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہندوستانی شہریوں کو بیرون ملک طویل قطاروں اور مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پون کھیڑا نے حکومت سے خارجہ پالیسی اور بیرون ملک ہندوستانی شہریوں کے مفادات کے معاملے میں واضح جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ اس کی خارجہ پالیسی ہندوستانی شہریوں کے مفادات کا تحفظ کس طرح یقینی بنا رہی ہے۔