زکربرگ نے بچوں کی سلامتی خطرے میں ڈال دی؟ سابق میٹا عہدیدار کا الزام

Wait 5 sec.

اوکلینڈ، کیلیفورنیا : میٹا کے سابق انجینئرنگ ڈائریکٹر آرٹورو بیجر نے عدالت میں دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے فیس بک اور انسٹاگرام پر بچوں کی حفاظت کے مقابلے میں صارفین کی تعداد، انگیجمنٹ اور کاروباری ترقی کو زیادہ اہمیت دی۔امریکا کی 29 ریاستوں نے فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کے خلاف نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے اور ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ مذکورہ مقدمے کی سماعت 18 اگست سے شروع ہوئی جو تقریباً 6 ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ مارک زکربرگ کی بھی عدالت میں گواہی متوقع ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقدمے کی سماعت کے موقع پر کمپنی کے سابق انجینئرنگ ڈائریکٹر آرتورو بیجر نے گواہی دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مارک زکربرگ نے کمپنی میں ایک ایسا کلچر پروان چڑھایا گیا جہاں بچوں کی حفاظت کو کاروباری ترقی (گروتھ) اور انگیجمنٹ کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دی گئی۔29ریاستوں کا میٹا کے خلاف مقدمہکیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی سمیت دیگر ریاستوں کا مؤقف ہے کہ میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام کو اس انداز میں ڈیزائن کیا کہ کم عمر صارفین ان پلیٹ فارمز پر زیادہ وقت گزاریں جس کے نتیجے میں بعض نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور خودکشی جیسے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔29ریاستوں میں شامل ریاستیں یہ الزام بھی عائد کر رہی ہیں کہ میٹا نے 13 سال سے کم عمر بچوں کا ذاتی ڈیٹا نامناسب طور پر جمع کیا اور اسے استعمال کیا، جو وفاقی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔مذکورہ ریاستوں کی جانب سے پہلے گواہ کے طور پر پیش ہونے والے بیجر نے کہا کہ زکربرگ کمپنی کے اہم فیصلوں میں گہری دلچسپی رکھتے تھے اور میٹا میں فیصلوں کا نظام اوپر سے نیچے کی طرف چلتا تھا، ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر زکربرگ کسی معاملے کو ترجیح دے دیں تو کمپنی چند ماہ میں بڑی تبدیلیاں کرسکتی ہے۔بیجر نے 2021 میں فیس بک کی سابق ملازم اور وسل بلور فرانسس ہاؤگن کے ان الزامات کو بھی مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ میٹا کو معلوم تھا کہ اس کی مصنوعات بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں اور کمپنی ان نقصانات کو دور کرنے کے طریقے بھی جانتی تھی، لیکن زیادہ منافع کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔بیجر نے عدالت میں کہا کہ وہ زکربرگ کے اس مؤقف سے متفق نہیں اور بچوں کے معاملے میں ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ بیٹی کو بھی انسٹاگرام پر نامناسب تبصروں کا سامنامیٹا کے وکیل کی جرح کے دوران بیجر نے تسلیم کیا کہ 2021 میں جب انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا تو انہیں ان خطرات کا مکمل اندازہ نہیں تھا جن کا اسے سامنا ہوسکتا تھا۔ان کے مطابق اس وقت ان کی بیٹی کی عمر 16 برس تھی اور وہ خواتین کے لیے گاڑیوں سے متعلق گفتگو کا ایک پلیٹ فارم چاہتی تھی، تاہم بعد میں اسے صنفی تعصب پر مبنی اور نامناسب تبصروں کا سامنا کرنا پڑا۔بیجر نے کہا کہ ان کی بیٹی نے انسٹاگرام پر اچھی تعداد میں فالوورز حاصل کیے، لیکن اس کے ساتھ اسے ذہنی اذیت بھی برداشت کرنا پڑی۔بیجر کا مزید کہنا تھا کہ میٹا کے پاس ایسی ٹیکنالوجی موجود تھی جس کے ذریعے 13 سال سے کم عمر مشتبہ صارفین کی شناخت کرکے ان سے عمر کی تصدیق کرائی جاسکتی تھی، لیکن کمپنی نے مبینہ طور پر مالی مفادات کی وجہ سے اس معاملے پر آنکھیں بند کیے رکھیں۔بچوں کے تحفظ پر میٹا کو ہزاروں مقدمات کا سامناماہرین کے مطابق یہ مقدمہ سوشل میڈیا کے کم عمر صارفین پر اثرات کے حوالے سے میٹا کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی قانونی آزمائشوں میں سے ایک ہے۔اس سے قبل نیو میکسیکو کی جانب سے دائر ایک مقدمے میں میٹا کو 942 ملین ڈالر ہرجانے اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ کمپنی کو ریاست میں اپنے پلیٹ فارمز میں تبدیلیاں کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔