اتوار کی شب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ مقتول گروپ کیپٹن عاصم طارق سرکاری کام کے لیے راولپنڈی جا رہے تھے، جب اُنھوں نے دیکھا کہ ایک شخص زبردستی ایک خاتون کو اپنے ساتھ لیجانے کی کوشش کر رہا ہے۔