تہران (05 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے پر ایرانیوں کو روتا دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا تھا، اس پر آرمینیا میں ایران کے سفارت خانے نے سخت ردِ عمل دیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ کے آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے پر ایرانیوں کو روتا دیکھ کر حیرت ہونے اور یہ کہ وہ سمجھتے تھے کہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں یا یہ بناوٹی آنسو بھی ہو سکتے ہیں، کے بیان پر آرمینا میں ایرانی سفارت خانے کے ایکس پر لکھا کہ لوگوں کو قتل کیا جا سکتا ہے، نظریات کو نہیں۔سفارت خانے کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو قتل صرف ایک عطر کی شیشی توڑنے کے مترادف ہے جس کی خوشبو ہر طرف پھیل گئی ہے۔ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے ایکس پر پوسٹ میں کہا گیا ’’تمھارے پاس نہ تہذیب ہے، نہ تاریخ، نہ ہی عزت و وقار۔‘‘People can be killed, but ideals cannot. You killed Ayatollah Khamenei, but in reality, you broke a perfume bottle whose scent spread everyplace. You don’t understand these things because you have neither civilization, nor history, nor honor. https://t.co/TtWtNlzG3f— IRI Embassy in Armenia (@iraninyerevan) July 4, 2026ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت علی خامنہ ای کے جنازے پر ایرانیوں کو روتا دیکھ کر حیران رہ گئے، انھوں نے کہا میرا خیال تھا کہ ایرانی لوگ علی خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں۔علی خامنہ ای کے جنازے میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں کریں گے، ٹرمپٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا چاہے تو اس موقع پر جمع تمام ایرانی قیادت کو ایک ہی بار میں ختم کر سکتے ہیں لیکن ایسا اس لیے نہیں کریں گے کہ پھر مذاکرات کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔This is gratitude of the Iranian people toward a leadership that until the last moment, was devoted to the greatness of Iran and sacrificed his life for the homeland. #wemustrise #Martykhamenei #باید_برخاست pic.twitter.com/zAQIL3Ejkf— IRI Embassy in Armenia (@iraninyerevan) July 4, 2026 واضح رہے کہ آج شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کا اجتماع ہوا، جنازہ گاہ سے لے کر تہران کی شاہراہوں تک عوام کی بڑی تعداد موجود رہی، سوگوار اپنے قائد کو اشک بار آنکھوں سے رخصت کرنے کے لیے جمع ہوئے، آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے ان کے اہلِ خانہ کی میتیں تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئیں تھیں۔کل بہ روز پیر جنازے کا جلوس تہران سے قم جائے گا، تدفین سے پہلے ایت اللہ علی خامنہ ای کی میت عراق کے شہر نجف اور کربلا بھی لے جائی جائے گی، 9 جولائی کو آیت اللہ خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔