عطیات چوری معاملے میں ’وی ایچ پی‘ کا اپوزیشن لیڈران کو نشانہ بنانا ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘ کے مترادف: کے سی وینوگوپال

Wait 5 sec.

رام مندر عطیہ چوری معاملے کو لے کر اپوزیشن نے ایک بار پھر حکومت اور ہندو تنظیموں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ کر کے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کو گھیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عطیات چوری معاملے میں اپوزیشن لیڈران کو نشانہ بنانے والا وی ایچ پی کا خط ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘ والے محاورے جیسا ہے۔The VHP’s letter attacking opposition leaders in the Ram Temple theft case is a classic case of the pot calling the kettle black. The same VHP that had in the past faced allegations by the Nirmohi Akhara of a ₹1,400 crore Ram Mandir scam is demanding that Opposition leaders…— K C Venugopal (@kcvenugopalmp) July 6, 2026اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کے سی وینوگوپال لکھتے ہیں کہ ’’وی ایچ پی پر پہلے نرموہی اکھاڑا نے 1400 کروڑ روپے کے رام مندر گھوٹالے کا الزام عائد کیا تھا اور اب ان اپوزیشن لیڈران سے پوچھ تاچھ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جنہوں نے مبینہ لوٹ پر سوال اٹھائے تھے۔ یہ مطالبہ جتنا بے تکا ہے، اتنا ہی شرمناک بھی ہے۔ خود تحقیقات کے دائرے میں ہونے کے باعث وی ایچ پی کے پاس اپوزیشن پر انگلی اٹھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔‘‘کے سی وینوگوپال اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’مندر ٹرسٹ کی تشکیل وزیر اعظم مودی نے کی تھی۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے، وی ایچ پی کے نائب صدر اور آر ایس ایس کے پرچارک بھی ہیں۔ ٹرسٹ کے صدر ہندوستانی وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری ہیں، جنہیں بی جے پی نے پدم بھوشن سے نوازا ہے۔ اس کے علاوہ مرکز اور ریاست دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت ہے۔ ایسے میں پرینکا جی اور اکھلیش جی یا دیگر اپوزیشن لیڈران کا اس معاملے سے آخر کیا تعلق بنتا ہے؟‘‘عطیات تنازعہ: رام کی سرزمین پر بڑا گھوٹالہ...پورنیما ایس ترپاٹھیکے سی وینوگوپال کا کہنا ہے کہ ’’سچ تو یہ ہے کہ وی ایچ پی اور سنگھ پریوار کی ساکھ پوری طرح ختم ہو چکی ہے۔ متنازعہ رام مندر تحریک طویل عرصے سے چندہ چوری کے الزامات کی زد میں رہی ہے اور حالیہ رپورٹس نے ایک بار پھر انکشاف کیا ہے کہ ہندوؤں کے ان نام نہاد محافظوں کا مذہب یا بھگوان رام سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ وہ صرف بھکتوں کی عقیدت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اگر وی ایچ پی کو واقعی رام مندر کے تقدس کی فکر ہے تو اس نے اپنی ہی تنظیم کے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا، جنہوں نے یہ بڑا گھوٹالہ کیا؟ وہ بی جے پی کی اس قیادت پر خاموش کیوں ہیں جس نے مندر کی تعمیر کا پورا کریڈٹ لیا تھا، لیکن اب جب ان کا مقرر کردہ ٹرسٹ خود تحقیقات کے گھیرے میں ہے تو وہ کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں؟‘‘کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’شرمندہ ہونے کے بعد وہ اب تماشہ کھڑا کرنے، معصومیت کا دکھاوا کرنے، حقائق کو توڑنے مروڑنے، ناقدین کو ڈرانے دھمکانے اور توجہ بھٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کی اپنی اخلاقی گراوٹ بے نقاب نہ ہو۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم ایک آزاد اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔ موجودہ ایس آئی ٹی رام مندر کو لوٹنے والوں کو بچانے کے لیے بنایا گیا محض ایک دکھاوٹی نظام ہے۔‘‘