ممبئی میں شدید بارش: اپوزیشن کا مہایوتی حکومت پر بدعنوانی اور ناقص بنیادی ڈھانچے کا الزام

Wait 5 sec.

ممبئی: مہاراشٹر میں مسلسل موسلادھار بارش کے باعث ممبئی اور اس کے اطراف کے علاقوں میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے، درخت گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے درمیان ریاست میں سیاسی محاذ بھی گرم ہو گیا ہے۔ شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رہنما سنجے راؤت، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے مہایوتی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاستی مشینری کے مکمل طور پر متحرک ہونے کا دعویٰ کیا۔سنجے راؤت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کو بارش میں رین کوٹ پہن کر ممبئی کا دورہ کرنا چاہیے تاکہ انہیں شہر کی حقیقی حالت کا اندازہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ شدید بارش کے سامنے بے بس دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے ممبئی۔پونے مسنگ لنک منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہاں صرف گڑھے ہی نہیں بلکہ کئی مقامات پر ڈھانچہ بھی متاثر ہوا ہے، جو بدعنوانی اور کمیشن خوری کا نتیجہ ہے۔راؤت نے حکومت پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ سرکاری منصوبوں میں ٹھیکیداروں کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے اور عوامی وسائل کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن میں گزشتہ ساڑھے چار برس کے انتظامی دور پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میٹھی ندی کی صفائی سمیت کئی منصوبوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ماضی کی حکومتوں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی کا حساب دے۔ادھر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا کہ ریاست میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے دوران ماحولیات کے تحفظ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ترقی کے نام پر بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کی گئی، جس کے نتیجے میں قدرتی توازن متاثر ہوا اور شدید بارش کے دوران عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ تمام بڑے منصوبوں کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے اور عوام کے سامنے حقائق رکھے جائیں۔سپریا سولے نے حالیہ بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر حادثات میں ہونے والی اموات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی اور پونے جیسے اہم شہروں میں بنیادی ڈھانچے کی ناکامی انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے ان تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ جانچ اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے رام مندر کے نذرانوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذہبی مقامات پر بھی بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے مہاراشٹر اسمبلی میں بتایا کہ ممبئی میٹروپولیٹن خطہ، تھانے، رائے گڑھ، پالگھر، پونے اور ناسک کے کئی علاقوں میں معمول سے کہیں زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ہنگامی خدمات کو انتہائی چوکس رکھا گیا ہے جبکہ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس، ریاستی آفات سے نمٹنے والی فورس اور مقامی ادارے پوری صلاحیت کے ساتھ امدادی اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔وزیر اعلیٰ کے مطابق محکمہ موسمیات نے کئی اضلاع کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے اور تیز ہواؤں کے باعث درخت گرنے اور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات برقرار ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، ساحلوں، آبشاروں اور تفریحی مقامات کا رخ کرنے سے گریز کریں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شدید متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو وقفے وقفے سے ہنگامی پیغامات بھی بھیجے جا رہے ہیں۔شدید بارش کی صورت حال کے پیش نظر مہاراشٹر اسمبلی کی کارروائی بھی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی تاکہ حکومت اور انتظامیہ مکمل توجہ امدادی سرگرمیوں پر مرکوز رکھ سکیں۔ کارروائی ملتوی ہونے سے قبل اپوزیشن ارکان نے اسمبلی کے باہر احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر بارش کے ابتدائی مرحلے ہی میں ناکامی کا الزام لگایا۔ کانگریس کے رہنما وجے وڈیٹیوار نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو دن کے دوران مختلف حادثات میں متعدد افراد کی جانیں گئیں، جنہیں بروقت احتیاطی اقدامات سے روکا جا سکتا تھا۔