(5 جولائی 2026): اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے تباہ حال غزہ کی تعمیرِ نو کیلیے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا کہ وہ غزہ میں کسی بھی قسم کے تعمیرِ نو کے منصوبے کو اس وقت تک قبول نہیں کریں گے، جب تک یہ ضمانتیں نہیں مل جاتیں کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا گیا ہے۔واضح تہے کہ مہینوں کی اسرائیلی فوجی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کی پٹی تقریباً تباہ ہو چکی ہے۔یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کو اپنے ہی خفیہ اداروں کے ہاتھوں سبکی کا سامنانیتن یاہو نے اخبار ’اسرائیل ہیوم‘ میں شائع ایک رپورٹ کی تردید کی، جس میں امدادی پناہ گاہوں کے انتظام کیلیے ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کی بات کی گئی تھی۔اس پروجیکٹ کو مستقل رہائش کی طرف ایک ابتدائی قدم کے طور پر پیش کیا گیا جو غزہ کی پٹی کے ان علاقوں میں ہونا تھا جو حماس کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم نے اس متبادل کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے وزرا کونسل اجلاس کے آغاز پر واضح طور پر کہا کہ غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کیے بغیر وہاں کوئی تعمیرِ نو نہیں ہوگی۔