تہران (06 جولائی 2026): ایران کے سرکاری ٹی وی رپورٹ کے مطابق نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد اور ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے سے مسلسل دوسرے دن بھی غائب رہے، حالاں کہ ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت تقریب میں شریک تھی۔سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران سب سے بڑا سوال یہ رہا کہ ان کے مبینہ جانشین اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای مسلسل دوسرے دن بھی جنازے میں نظر نہیں آئے، حالاں کہ ملک کی تقریباً تمام اعلیٰ سیاسی و عسکری شخصیات وہاں موجود تھیں۔ ان کی غیر موجودگی نے ان کی صحت، سیکیورٹی اور قیادت کے مستقبل کے حوالے سے نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔علی خامنہ ای کے تینوں بیٹوں نے اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور سرکاری ٹیلی ویژن نے مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای سمیت ملک کی اعلیٰ سرکاری شخصیات کے مناظر دکھائے۔ صدرِ جمہوریہ مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز سب وہاں موجود تھے۔سپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے، سربراہ ایرانی عدلیہالعربیہ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو مبینہ طور پر نیا سپریم لیڈر قرار دیا گیا تھا، مگر وہ اب تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے، نہ کوئی خطاب، نہ ویڈیو اور نہ کوئی تازہ تصویر سامنے آئی، ان کی صحت کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن میں معمولی زخمی ہونے سے لے کر شدید چوٹوں اور علاج کی رپورٹس تک شامل ہیں۔مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت اور حکومت کے آغاز کے باوجود ملک میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ اصل میں ایران کا نظام کون چلا رہا ہے، کیوں کہ اقتدار کے اندر شدید اختلافات اور دھڑے بندی بھی سامنے آ رہی ہے، مختلف سیاسی گروہ ایک دوسرے پر الزامات، غداری اور سازش جیسے سنگین دعوے کر رہے ہیں۔ادھر آئندہ اہم فیصلوں میں عدلیہ، میڈیا، اور سیکیورٹی اداروں کی قیادت سمیت کئی حساس عہدوں پر تقرریاں ہونی ہیں، جنھیں مجتبیٰ خامنہ ای کی سیاسی سمت اور حمایت کا اہم امتحان سمجھا جا رہا ہے۔علی خامنہ ای کے جنازے اور تدفین کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں لاکھوں افراد کی شرکت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جب کہ ان کی تدفین ایران کے مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے مشہد میں کی جائے گی۔العربیہ کے مطابق اتوار کے روز بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے سامنے نہ آنے کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا ان کے زخم انھیں سامنے آنے سے روک رہے ہیں؟ یا سیکیورٹی خدشات انھیں عوام کی نظروں سے دور رہنے پر مجبور کر رہے ہیں؟ اور ایران کا سب سے اہم شخص اپنا عہدِ حکومت کیسے شروع کر رہا ہے جب کہ ایرانیوں نے انھیں اب تک دیکھا بھی نہیں ہے؟