کیف : نیٹو سربراہی اجلاس سے پہلے روس نے یوکرین پر بڑا فضائی حملہ کردیا ، جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق ترکیہ میں شیڈول نیٹو سربراہی اجلاس سے پہلے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں اچانک شدت آگئی۔روسی فوج نے یوکرینی دارالحکومت کیف پر اب تک کا ایک بہت بڑا فضائی حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔‘الجزیرہ ٹی وی’ نے کیف کے فوجی سربراہ کے حوالے سے بتایا روسی فوج نے یوکرینی دارالحکومت کو نشانہ بنانے کے لیے 68 ہلاکت خیز میزائل اور 351 ڈرون داغے۔یوکرینی حکام کا کہنا تھا کہ محض ایک ہفتے کے دوران دارالحکومت کیف پر روس کا یہ دوسرا بڑا اور تباہ کن حملہ ہے، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں، حملوں کے نتیجے میں اب تک 46 افراد کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ترکیہ میں ہونے والے اہم نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ہی یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ روس اس اہم سفارتی بیٹھک کو سبوتاژ کرنے یا دباؤ بڑھانے کے لیے یوکرین کو بڑے حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے، جو اب سچ ثابت ہو گیا ہے۔دوسری جانب یوکرینی فوج نے بھی اس حملے کا بھرپور جواب دیتے ہوئے روس کے زیرِ کنٹرول جزیرہ نما کرائمیا میں روسی توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔. یوکرینی ڈرون حملے کے بعد روسی کنٹرول والے علاقے ‘سواستوپول’ میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے اور پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق نیٹو اجلاس کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے ان حملوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔