تل ابیب (05 جولائی 2026): اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر امریکا کا دورہ منسوخ کر دیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کو اس ہفتے اقوام متحدہ کی پولیسنگ کانفرنس میں شرکت کے لیے نیویارک جانا تھا، لیکن اب وہ اس سے دست بردار ہو گئے ہیں، کیوں کہ ان پر جیلوں سے متعلق پالیسیوں اور جنگی جرائم میں مبینہ ملوث ہونے کے حوالے سے قانونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے بن گویر کے خلاف مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے، ان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ صہیونی کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور انھیں گرفتار کیا جائے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بن گویر حالیہ دنوں میں 2 بار دورہ امریکا منسوخ کر چکے ہیں۔اسرائیلی اخبار ہارٹز نے وزارت کے حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ فیصلہ بن گویر کے دورۂ امریکا کے خلاف متوقع احتجاجی مظاہروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان کے خلاف تحقیقات اور گرفتاری کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے باعث کیا گیا ہے۔اس ہفتے کے آغاز میں ’ہند رجب فاؤنڈیشن‘ جو بیلجیئم میں قائم ایک تنظیم ہے اور دنیا بھر میں اسرائیلی فوجیوں اور حکام کے خلاف قانونی مقدمات دائر کرنے کے لیے جانی جاتی ہے، نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بن گویر کو ان کی جیل پالیسیوں کے باعث حراست میں لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔بن گویر کی منگل اور بدھ کو نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے پولیس سربراہان کے اجلاس میں شرکت متوقع تھی۔ ہند رجب فاؤنڈیشن نے بتایا کہ اس نے نیویارک میں قائم سینٹر فار کانسٹیٹیوشنل رائٹس کے ساتھ مل کر امریکی محکمۂ انصاف میں شکایت دائر کی ہے، اور نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز سے بن گویر کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ بن گویر نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے منظم تشدد، قتل، بدسلوکی اور جبری بے دخلی کی پالیسی نافذ کی، خصوصاً اسرائیلی محکمۂ جیل خانہ جات میں، جو ان کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔تنظیموں کا مؤقف ہے کہ لیٹیشیا جیمز کو بن گویر کے خلاف تحقیقات کا اختیار حاصل ہے، کیوں کہ نیویارک کے متعدد رہائشی بن گویر کے مبینہ مجرمانہ اقدامات سے متاثر ہوئے ہیں، اور ممکن ہے کہ وہ نیویارک میں قیام کے دوران بھی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔انھوں نے ایسے 11 مبینہ واقعات کا حوالہ دیا جن میں نیویارک کے رہائشی متاثر ہوئے، جن میں گزشتہ دو برس کے دوران غزہ جانے والے امدادی بحری قافلوں میں شامل 10 افراد بھی شامل ہیں، جنھیں اسرائیل کی حراست میں لینے کے بعد تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔واضح رہے کہ امریکا کی حمایت سے 8 اکتوبر 2023 کو غزہ کے خلاف شروع کی گئی اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں غزہ کی تقریباً 90 فی صد شہری بنیادی ڈھانچا تباہ ہو چکا ہے، جب کہ 73 ہزار سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔