این ایس یو آئی کا ملک گیر اندرونی انتخابات کا اعلان، تعلیمی منشور بھی کیا جائے گا تیار

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی نے ملک بھر میں تنظیمی ڈھانچے کو جمہوری بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لیے اندرونی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کانگریس قیادت نے ایک مرکزی انتخابی اتھارٹی تشکیل دی ہے، جس کی نگرانی میں آزادانہ اور شفاف انداز میں انتخابی عمل مکمل کیا جائے گا۔کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے انچارج کنہیا کمار اور قومی صدر ونود جاکھڑ نے بتایا کہ تنظیم کے کالج، یونیورسٹی، ضلع اور ریاستی سطح کے صدور اور کمیٹیوں کا انتخاب دو مرحلوں میں ہوگا۔ پہلے مرحلے میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے صدور اور کمیٹیوں کے انتخابات کرائے جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں ضلع اور ریاستی اکائیوں کے صدور اور کمیٹیوں کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ اس موقع پر مرکزی انتخابی اتھارٹی کے اراکین کرن مگباساو، کے کے شاستری اور نشانت منڈل بھی موجود تھے۔انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی رکنیت حاصل کرنے اور انتخاب لڑنے کے لیے امیدوار کا ہندوستانی شہری، آئین پر یقین رکھنے والا اور سولہ سے ستائیس برس عمر کا طالب علم ہونا ضروری ہوگا۔ رکنیت کے لیے کالج کا شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ لازمی ہوگا، جبکہ تین برس کے لیے پینتالیس روپے رکنیت فیس مقرر کی گئی ہے۔ یہ پوری کارروائی آن لائن اور موبائل ایپ کے ذریعے انجام دی جائے گی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ ضلع یا ریاستی صدر کا انتخاب لڑنے کے لیے متعلقہ امیدوار کا پہلے کالج یا یونیورسٹی سطح پر صدر منتخب ہونا لازمی ہوگا۔کنہیا کمار اور ونود جاکھڑ نے الزام عائد کیا کہ ملک کی تعلیمی صورت حال مسلسل خراب ہو رہی ہے اور تعلیمی اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ بند طریقے سے متعدد مقامات پر طلبہ یونین کے انتخابات بند کر دیے گئے ہیں، جس سے تعلیمی اداروں میں جمہوری ماحول متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی مدت میں بار بار توسیع پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اختلافی آواز اٹھانے والے طلبہ کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ مخصوص نظریے سے وابستہ افراد کو اہم تعلیمی عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے۔مرکزی انتخابی اتھارٹی کے اراکین نے بتایا کہ پہلے منتخب ریاستوں میں رکنیت مہم چلائی جائے گی، جس کے بعد انتخابی عمل کا باضابطہ آغاز ہوگا۔ ان کے مطابق انتخابات میں شفافیت اور سماجی انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔ ریاستوں کی ضرورت کے مطابق گردشی بنیاد پر ریزرویشن نافذ کیا جائے گا، خواتین کی نمائندگی کو خصوصی اہمیت دی جائے گی اور جلد ہی مکمل انتخابی پروگرام کے ساتھ ایک خصوصی موبائل ایپ بھی جاری کی جائے گی۔کنہیا کمار نے کہا کہ این ایس یو آئی طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں سے تجاویز حاصل کر رہی ہے تاکہ ان کی بنیاد پر ملک کی تعلیمی اصلاحات کے لیے ایک جامع تعلیمی منشور تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک کے معاملات پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ بھی دہرایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کے لیے باقاعدہ روزگار کیلنڈر جاری کیا جانا چاہیے اور امتحانات و تقرریوں کے عمل کو وقت کا پابند بنانے کے لیے تعلیمی کیلنڈر نافذ کیا جانا ضروری ہے۔