ماسکو (05 جولائی 2026): کریملن کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکا کے 250 ویں یوم آزادی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے انھیں مبارک باد پیش کی۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس اور امریکا دنیا کی دو بڑی ایٹمی طاقتیں ہیں، اس لیے عالمی امن و سلامتی کے قیام کی ذمہ داری بھی اُن پر عائد ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ روس اور امریکا نے مل کر انسانیت کو نازی ازم کی ہولناکیوں سے نجات دلائی اور جدید عالمی نظام کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، آج روس اور امریکا دنیا کی دو سب سے بڑی ایٹمی طاقتیں ہونے کے باعث عالمی امن و استحکام کی ذمہ دار ہیں۔بن گویر نے ڈر کے مارے امریکی دورہ منسوخ کر دیاپیوٹن نے امید ظاہر کی کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعمیری، مساوی اور باہمی مفادات پر مبنی تعلقات دونوں ممالک اور عالمی برادری کے مفاد میں ثابت ہوں گے۔واضح رہے کہ کسی دو طاقتوں کی جانب سے خود کو عالمی امن کا ’’ذمہ دار‘‘ قرار دینا اقوامِ متحدہ کے اجتماعی سلامتی کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا، کیوں کہ یہ پوری عالمی برادری، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ جاتی نظام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔دوسری طرف روس خود یوکرین جنگ کے باعث شدید بین الاقوامی تنقید اور پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جب کہ امریکا بھی مختلف عالمی تنازعات میں اپنے انتہائی جانب دارانہ اور سفّاکانہ کردار پر مسلسل تنقید کی زد میں رہا ہے۔ایسے میں دونوں ممالک کا خود کو عالمی امن کا بنیادی ضامن قرار دینا ایک متنازع سیاسی بیانیہ سمجھا جا سکتا ہے، جسے عالمی سطح پر متفقہ حقیقت نہیں مانا جاتا۔