’فیراری جیسی تکنیک، لیکن مودی حکومت نے روک دی سانسیں‘، بس-ٹرک کی باڈی بنانے والوں سے راہل گاندھی کی ملاقات، دیکھیں ویڈیو

Wait 5 sec.

’’لوہے کی چادریں... ویلڈنگ کی چنگاریاں... ہتھوڑوں کی آواز... ان کے درمیان محنت اور ہنر سے ہندوستان کا مستقبل بناتے کاریگر۔ جئے پور کے مقامی بس اور ٹرک باڈی بلڈرس کی فیکٹری میں ایک ایسا ہندوستان نظر آیا جو اپنے ہاتھوں سے روزگار بھی بناتا ہے اور ملک کی رفتار بھی۔‘‘ یہ تبصرہ راہل گاندھی نے راجستھان کے جئے پور میں بس-ٹرک کی باڈی بنانے والی فیکٹری میں کام کرنے والوں سے ملاقات کی ویڈیو ’یوٹیوب‘ پر شیئر کرتے ہوئے کیا ہے۔راہل گاندھی نے یوٹیوب پر ڈالی گئی اس ویڈیو کے ساتھ جو تحریریں لکھی ہیں، ان میں بس-ٹرک کی باڈی بنانے والی فیکٹری کے مسائل، ان میں کام کرنے والوں کی پریشانیوں اور مشکل حالات کی وجہ پر مختصر روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’افسوس، دہلی کی وزارت ٹرانسپورٹ میں بیٹھ کر بنائے گئے اصول ملک بھر میں ان چھوٹی صنعتوں کی سانسیں روک رہے ہیں۔ تکنیکی خرابی سے بسوں میں آگ لگنے کا الزام ان کے سر تھوپا جا رہا ہے، جو صرف گاڑیوں کی باڈی بناتے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’جن ایم ایس ایم ای کو سہارا ملنا چاہیے، انہی کا قصداً گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ ’میک اِن انڈیا‘ اور ’ووکل فار لوکل‘ صرف نعرے ہیں۔ مودی حکومت کی پالیسیاں صرف بڑے صنعت کاروں کے لیے ہیں۔‘‘ LoP Shri @RahulGandhi met with local bus and truck body manufacturers in Rajasthan.The Modi government's anti-MSME policies are strangling these industries that drive India's economy and generate employment. Unfortunately, they… pic.twitter.com/Dsa8KZymC5— Congress (@INCIndia) July 6, 2026موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’فیکٹریاں بند ہوں گی تو صرف کاروبار نہیں رکے گا، ہنر بکھرے گا، روزگار ختم ہوں گے، عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھے گا۔ ہمیشہ کی طرح اس کی قیمت بھی محنت کش اور ہنرمند ہندوستانی ادا کرتے رہیں گے۔‘‘ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ راہل گاندھی اور بس-ٹرک کی باڈی بنانے والے ورکرس کے درمیان ہوئی ملاقات کی کچھ تصویریں کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر بھی شیئر کی ہیں۔