بیجنگ : چین نے بحرالکاہل میں بڑا عسکری مظاہرہ کرتے ہوئے ایٹمی آبدوز سے اسٹریٹیجک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ، تجربہ سالانہ فوجی تربیت کاحصہ تھا۔تفصیلات کے مطابق چینی بحریہ نے پیر کے روز بحرالکاہل میں اسٹریٹجک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔چینی پیپلز لبریشن آرمی کی بحریہ کے ترجمان وانگ شومینگ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ‘وی چیٹ’ پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی کہ "6 جولائی کی دوپہر 12 بج کر 1 منٹ پر چینی بحریہ کی ایک اسٹریٹجک نیوکلیئر آبدوز سے بحرالکاہل کے کھلے سمندر میں ایک اسٹریٹجک میزائل کامیابی سے داغا گیا۔”ترجمان کا کہنا تھا کہ سمندر میں وارہیڈ کیساتھ طویل فاصلے تک مار والے میزائل کا تجربہ کیا، جس نے سمندر میں پہلے سے طے شدہ ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ترجمان نے مزید کہا کہ تجربہ سالانہ فوجی تربیت کا حصہ تھا جس کے بارے میں متعلقہ ممالک کو آگاہ کیا گیا تھا۔اس تجربے سے قبل ہی پاپوا نیو گنی اور نیوزی لینڈ کے حکام نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا تھا کہ چین بحرالکاہل میں جوہری صلاحیت کے حامل میزائل کا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔پاپوا نیو گنی کے وزیر خارجہ جسٹن ٹکاچینکو نے تصدیق کی کہ چینی سفیر نے ذاتی طور پر فون کر کے انہیں اس تجربے کے حوالے سے پہلے سے مطلع کیا تھا۔نیوزی لینڈ کے حکومتی ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ چین نے انہیں اس بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ٹیسٹ کے بارے میں الرٹ کر دیا تھا۔دوسری جانب جاپان نے اس میزائل تجربے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، میزائل داغے جانے سے قبل جاری ایک مشترکہ حکومتی بیان میں ٹوکیو کا کہنا تھا کہ "ہم نے چین سے اس بیلسٹک میزائل تجربے پر نظرثانی کا پرزور مطالبہ کیا تھا تاکہ یہ جاپانی فضائی حدود سے گزر کر جاپان کی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہ کرے۔”دفاعی ماہرین کے مطابق بحرالکاہل میں چین کی اس تازہ ترین بحری اور جوہری طاقت کے مظاہرے سے خطے میں دفاعی تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔