برطانیہ نے ایئربیس واقعے میں ایران کو ملوث قرار دیدیا

Wait 5 sec.

برطانیہ کا کہنا ہے کہ ایئر بیس واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ‘واضح’ اشارے ملے ہیں۔برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ آر اے ایف (RAF) فیئر فورڈ واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ‘مضبوط اشارے’ موجود ہیں۔ اینڈی برنہم نے کہا کہ برطانیہ میں امریکی زیرِ انتظام رائل ایئر فورس (RAF) کے فیئر فورڈ ایئر بیس کے قریب پیش آنے والے سکیورٹی واقعے میں ایران کے کردار کے بارے میں مضبوط اشارے ملے ہیں۔اتوار کے روز برطانیہ کے ‘انسدادِ دہشت گردی’ قوانین کے تحت "دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری” سمیت مختلف جرائم کے شبے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔اگلے ہی روز برطانوی پولیس نے مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا۔ برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے بتایا کہ یہ پانچوں افراد برطانوی شہری ہیں، لندن میں مقیم ہیں اور ان کی عمریں 23 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔برنہم نے صحافیوں کو بتایا کہ لندن، واشنگٹن کے ساتھ مل کر "ایک جاری، پیچیدہ اور سنگین پولیس تفتیش” پر کام کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ مشتبہ افراد "بڑے پیمانے پر نقصان” پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ایران نے ایئر بیس کے خلاف مبینہ سازش میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔گلوسٹر شائر میں واقع آر اے ایف (RAF) کا یہ ایئر بیس طویل عرصے سے امریکی اور نیٹو افواج کے زیرِ استعمال رہا ہے۔ مارچ سے امریکا اسے ایران پر حملے کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، اور برطانیہ نے وہاں تعینات امریکی بمبار طیاروں کو اجازت دی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائل ٹھکانوں پر حملے کریں۔’برطانیہ میں فضائی اڈے واقعے میں غیرملکی ریاست ملوث تھی‘