یوپی پولیس کے بارے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے انتہائی سخت تبصرے پر کانگریس نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس معاملے پر کانگریس لیڈران راجندر پال گوتم، ابھے دوبے اور عمران مسعود نے پریس کانفرنس کی۔ کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایس سی ڈپارٹمنٹ کے قومی صدر راجندر گوتم نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ اور الٰہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی پولیس کو لے کر انتہائی سخت تبصرے کیے ہیں۔ جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا کی بنچ نے مجرمانہ معاملات کی جانچ میں یوپی پولیس کے طریقۂ کار پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے اپنے تبصروں میں یوپی میں بی جے پی کی حکومت کے دوران جاری بدانتظامی کا ذکر کیا ہے اور یہاں تک کہا ہے کہ یوپی پولیس کو تحلیل کر دینا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کی حکومت میں جرائم پیشہ افراد اور اقتدار کے درمیان گٹھ جوڑ دلتوں، متاثرین اور استحصال زدہ لوگوں کے خلاف ہے اور بااثر افراد کے لیے کام کرتا ہے۔ یوپی میں اوسطاً روزانہ 9 قتل، 10 اقدام قتل، عصمت دری کے 9، اغوا کے 33 اور تقریباً 235 پرتشدد جرائم کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔‘‘सुप्रीम कोर्ट और इलाहाबाद हाईकोर्ट ने यूपी पुलिस को लेकर बेहद सख्त टिप्पणियां की हैं।जस्टिस संजय कुमार जी और जस्टिस संजीव सचदेवा जी की बेंच ने आपराधिक मामलों की जांच में यूपी पुलिस की कार्यशैली पर कड़ी नाराजगी जाहिर की है।कोर्ट ने टिप्पणियों में यूपी में BJP राज में जारी… pic.twitter.com/n8ELMOqhTr— Congress (@INCIndia) October 1, 2026راجندر پال گوتم نے کہا کہ ’’لوگوں نے موٹرسائیکل سوار ایک مجرم کو پکڑ کر اسے یوپی پولیس کے حوالے کیا، لیکن پولیس نے اسے ’نامعلوم‘ لکھ دیا۔ عدالت میں جب یہ معاملہ گیا تو سی سی ٹی وی فوٹیج مانگی گئی جس پر جواب دیا گیا کہ کیمرے بند ہیں۔ جبکہ پیمنٹ ہونے کے بعد بھی کئی علاقوں میں سی سی ٹی وی نہیں لگایا گیا۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے تو یوپی پولیس کو ’جھوٹوں کا جُھنڈ‘ تک کہہ دیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’عام آدمی جرم کرے تو فوراً مقدمہ درج ہوتا ہے، لیکن اگر پولیس ہی جرم کرے تو کارروائی کون کرے گا؟ عدالت نے اس معاملے میں ایس ایچ او پر پنالٹی لگاتے ہوئے کہا کہ کیا ہر معاملے میں جانچ کرائم برانچ یا سی بی آئی کو دینی پڑے گی؟‘‘जनता ने मोटरसाइकिल सवार एक अपराधी को पकड़कर उसे UP पुलिस के हवाले किया, लेकिन पुलिस ने डायरी में उसे 'अज्ञात' लिख दिया।कोर्ट में जब यह मामला गया तो CCTV फुटेज मांगी गई, जिस पर जवाब दिया गया कि कैमरे बंद हैं। जबकि पेमेंट होने के बाद भी कई इलाकों में CCTV नहीं लगाया गया।… pic.twitter.com/OFKyDhIL0K— Congress (@INCIndia) October 1, 2026پریس کانفرنس کے دوران راجندر پال گوتم نے مزید کہا کہ ’’اتر پردیش کی پولیس حکومت کے اشاروں پر دلتوں، پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کا استحصال کر رہی ہے۔ اس کے کچھ معاملات ذیل میں دیکھیے:اناؤ میں عصمت دری کی متاثرہ کے والد کو اتنا مارا گیا کہ پولیس کسٹڈی میں ان کی موت ہو گئی۔آگرہ میں دلت صفائی کارکن ارون والمیکی کا پولیس کسٹڈی میں قتل ہو گیا۔لکھیم پور کھیری میں دلت آسا رام کا پولیس کسٹڈی میں قتل ہو گیا۔لکھنؤ میں دلت نوجوان امن گوتم کا کسٹڈی میں قتل ہو گیا۔اعظم گڑھ میں دلت نوجوان سنی کمار کی کسٹڈی میں موت ہو گئی۔گونڈا میں سنجے کمار سونکر کی پولیس کسٹڈی میں موت ہو گئی۔بلیا میں دلت مزدور کامجی گونڈ کی پولیس کسٹڈی میں موت ہو گئی۔پریاگ راج میں دلت کسان دیوی شنکر کو قتل کر دیا گیا۔یوپی میں ایسی حکومت ہے جو نہ عدالت کو مانتی ہے اور آئین کو۔ یہ ایک تاناشاہ حکومت ہے، جس نے پولیس کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔‘‘उत्तर प्रदेश की पुलिस सत्ता के इशारों पर दलित, पिछड़े और अति-पिछड़े वर्गों का उत्पीड़न कर रही है।इसके कुछ मामले देखिए⦿ उन्नाव में दुष्कर्म पीड़िता के पिता को इतना मारा गया कि पुलिस कस्टडी में उनकी मौत हो गई⦿ आगरा में दलित सफाईकर्मी अरुण वाल्मीकि की पुलिस कस्टडी में… pic.twitter.com/OAzn8n9TLZ— Congress (@INCIndia) October 1, 2026اے آئی سی سی کے نیشنل میڈیا کوآرڈینیٹر ابھے دوبے نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ نے ’ون ڈسٹرکٹ، ون مافیا‘ کا ماڈل تیار کیا ہے۔ برجیش سنگھ تو وہ سرغنہ ہے جو نریندر مودی کے لیے انتخابی مہم چلا رہا تھا اور تب بھی میں نے اس پر سوال اٹھایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وارانسی کے عوام نے 2024 کے انتخاب میں نریندر مودی کو کئی راؤنڈ تک پیچھے رکھا، لیکن بعد میں کاؤنٹنگ روک کر انہیں فتحیاب کرا دیا گیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’آج یوپی کی عوام یوگی آدتیہ ناتھ سے پوچھ رہی ہے کہ آخر کب تک ہنگامہ آرائی چلے گی؟ یہی وجہ ہے کہ آج سپریم کورٹ اور الٰہ آبادہ ہائی کورٹ جیسے اداروں نے یوپی کے حوالے سے سخت تبصرے کیے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یوگی حکومت نے جرائم پیشہ افراد کو اس قدر تحفظ فراہم کیا ہے کہ اب وہ کھلے عام عوام کو پریشان کرنے لگے ہیں۔ اترپردیش میں قتل، لوٹ اور عصمت دری جیسے جرائم عروج پر ہیں۔ یہاں بیٹیوں پر سب سے زیادہ ایسڈ اٹیک ہو رہے ہیں۔‘‘यूपी में योगी आदित्यनाथ ने 'वन डिस्ट्रिक्ट, वन माफिया' का मॉडल तैयार किया है।बृजेश सिंह तो वो सरगना है, जो नरेंद्र मोदी के लिए चुनाव प्रचार कर रहा था और तब भी मैंने इस पर सवाल उठाया था।इसी के चलते वाराणसी की जनता ने 2024 के चुनाव में नरेंद्र मोदी को कई राउंड तक पीछे रखा,… pic.twitter.com/6bW31ZYYGM— Congress (@INCIndia) October 1, 2026سہارنپور سے کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’یوپی میں بدانتظامی کا راج ہے اور بی جے پی کی حکومت نے اسے بدانتظام ریاست بنا دیا ہے۔ اتر پردیش میں مسلسل دلتوں کے خلاف مظالم ہو رہے ہیں، جس کی گواہی این سی آر بی کے اعداد و شمار دیتے ہیں۔ اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی بات کسی سے چھپی نہیں ہے۔ نریندر مودی کہتے تھے کہ میں ہر مسلمان بچے کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر دیکھنا چاہتا ہوں، لیکن آج مدارس پر ہی بلڈوزر چلایا جا رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ریاست میں مسلسل اسکول بند ہو رہے ہیں اور اسکولوں کے بدتر حالات دکھانے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، انہیں جیل بھیجا جا رہا ہے۔ ہمیں امید تھی کہ وزیر اعلیٰ سَنت ہیں، ان میں محبت، احترام اور رحم دلی ہوگی، لیکن یہاں تو مساجد ہی منہدم کی جا رہی ہیں، جبکہ ان کے پاس دستاویزات موجود تھیں۔‘‘ ان کے مطابق بی جے پی حکومت یوپی میں صرف نفرت پھیلا رہی ہے۔ یہاں جوڑنے کی نہیں، صرف توڑنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ جب ریاست کے وزیر اعلیٰ ہی ’پرلوک کے درشن کروا دیں گے‘ جیسی باتیں کرنے لگیں، تو دوسروں سے کیا امید کی جائے گی۔ یہ تکبر ہے، جسے لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔यूपी में अराजकता का राज है और BJP की सरकार ने इसे अराजक प्रदेश बना दिया है। उत्तर प्रदेश में लगातार दलितों के खिलाफ अत्याचार हो रहा है, जिसकी गवाही NCRB के आंकड़े देते हैं। अल्पसंख्यकों, खासकर मुसलमानों के साथ अन्याय की बात किसी से छिपी नहीं है। नरेंद्र मोदी कहते थे- मैं हर… pic.twitter.com/6DVdNFzDtO— Congress (@INCIndia) October 1, 2026