دہلی کے بیلا اسٹیٹ میں 728 میں سے 727 ووٹروں کے نام حذف، راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر اٹھائے سوال

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دہلی کے یمنا کنارے واقع بیلا اسٹیٹ میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے انتخابی کمیشن کی خصوصی گہری نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بیلا اسٹیٹ میں رہنے والے 728 افراد میں سے ایس آئی آر کے بعد صرف ایک شخص کا نام ووٹر لسٹ میں باقی رہ گیا، جبکہ 727 نام ہٹا دیے گئے۔راہل گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ اور ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بیلا اسٹیٹ کے رہنے والوں کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں رہنے والے لوگ کئی دہائیوں سے علاقے میں مقیم ہیں اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ان کے مطابق 2023 میں ان کے گھر توڑ دیے گئے تھے، تاہم وہ کہیں اور منتقل نہیں ہوئے اور اب بھی وہیں رہ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے بتایا کہ وہ پیر کو بیلا اسٹیٹ کی جھگی بستی میں گئے اور وہاں رہنے والے لوگوں سے براہ راست بات کرکے ان کی مشکلات اور شکایات سنیں۔ انہوں نے اس معاملے میں ایس ڈی ایم سے فون پر بھی بات کی اور ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے پر سوال اٹھایا۔کانگریس رہنما نے کہا کہ کسی شخص کے پاس مکان ہے یا نہیں، اس کا اس کے ووٹ دینے کے حق سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے گھر افراد کے لیے ووٹر لسٹ میں ’’ہاؤس نمبر 0‘‘ کا انتظام موجود ہے۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ اس کے باوجود بیلا اسٹیٹ کے 727 لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے کیوں ہٹا دیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’یہ ایس آئی آر نہیں، ووٹ چوری کا طریقہ ہے‘‘۔ راہل گاندھی نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس پہلے ہی سب سے کم وسائل ہیں، ان سے ان کی واحد طاقت، یعنی ووٹ کا حق، چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گیانیش کمار تو عہدے سے چلے جائیں گے، لیکن جس نظام نے ان سے یہ سب کروایا، اس کا بھی حساب ہوگا۔بیلا اسٹیٹ سے متعلق دستیاب رپورٹوں میں تاہم ووٹروں کی تعداد کے حوالے سے معمولی فرق سامنے آیا ہے۔ دہلی کی ایس آئی آر ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے حوالے سے بعض رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ متعلقہ پولنگ پارٹ میں پہلے 729 ووٹر درج تھے، جن میں سے صرف ایک کا نام ڈرافٹ فہرست میں موجود تھا، جبکہ 728 نام شامل نہیں تھے۔ حکام کی جانب سے اس کی وجہ پرانے پتے پر موجود مکانات کے منہدم ہونے اور رہائش کی صورتحال میں تبدیلی کو بتایا گیا تھا۔رپورٹس کے مطابق جن اہل ووٹروں کے نام ڈرافٹ فہرست میں شامل نہیں ہیں، وہ دعوے اور اعتراضات کے مقررہ عمل کے تحت فارم 6 جمع کرا کے اپنا نام دوبارہ شامل کرانے کی درخواست دے سکتے ہیں۔بیلا اسٹیٹ کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دہلی میں ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کو لے کر اپوزیشن اور انتخابی کمیشن کے درمیان سیاسی اختلاف جاری ہے۔ راہل گاندھی اس سے قبل بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سوال اٹھا چکے ہیں۔الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے شیڈول سے متعلق فیصلوں پر اختلاف کی خبروں کے جواب میں کہا ہے کہ اس عمل سے متعلق تمام فیصلے کمیشن کی متفقہ منظوری سے لیے گئے ہیں۔यमुना किनारे बेला एस्टेट में 728 लोग रहते हैं। SIR के बाद वोटर लिस्ट में सिर्फ़ एक नाम बचा - बाकी 727 नाम काट दिए गए।ये लोग दशकों से यहाँ रह रहे हैं। 2024 के लोकसभा चुनाव और 2025 के दिल्ली चुनावों में वोट डाल चुके हैं। 2023 में इनके घर तोड़ दिए गए थे - पर ये कहीं नहीं गए, यहीं… pic.twitter.com/27cJZjqJg6— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) September 28, 2026رپورٹس کے مطابق، جن اہل ووٹروں کے نام ڈرافٹ فہرست میں شامل نہیں ہیں، وہ مقررہ مدت کے دوران دعوے اور اعتراضات کے عمل کے ذریعے فارم 6 جمع کرا کے اپنا نام دوبارہ شامل کرانے کی درخواست کر سکتے ہیں۔بیلا اسٹیٹ کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دہلی میں ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام خارج ہونے کو لے کر اپوزیشن اور انتخابی کمیشن کے درمیان تنازع جاری ہے۔ راہل گاندھی اس سے قبل بھی چیف الیکشن کمشنر اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سوال اٹھا چکے ہیں۔الیکشن کمیشن نے، تاہم، ایس آئی آر کے شیڈول سے متعلق فیصلوں پر اختلاف کی خبروں کے جواب میں کہا ہے کہ اس عمل سے متعلق تمام فیصلے کمیشن کی متفقہ منظوری سے لیے گئے ہیں۔