انتخابات میں ہو رہی ہے ’میچ فکسنگ‘، کانگریس کو مزاحمت جاری رکھنی چاہیے: راہل گاندھی

Wait 5 sec.

کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے منگل کو کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے اجلاس میں انتخابات سے متعلق سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ’میچ فکسنگ‘ کی دو شکلیں ہو رہی ہیں، جن میں ایک ای وی ایم سے متعلق ہے اور دوسری ووٹر فہرستوں سے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ان معاملات کے خلاف سڑک سے پارلیمنٹ تک اپنی مزاحمت جاری رکھنی چاہیے۔کانگریس ذرائع کے مطابق، نئی دہلی میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر ’اندرا بھون‘ میں تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والے سی ڈبلیو سی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے ’ووٹ چوری‘ کے معاملے کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ انہوں نے ہریانہ، کرناٹک اور مہاراشٹر کے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں بہت سے لوگ ان دعوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے، لیکن اب یہ معاملہ میڈیا اور اداریوں میں بھی زیر بحث آ رہا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں اس معاملے پر ماحول بدلا ہے اور اس کی بنیادی وجہ حقائق پر مبنی پیشکشیں ہیں۔ ان کے مطابق انتخابات میں ’میچ فکسنگ‘ کی دو شکلیں ہیں—ایک ای وی ایم سے متعلق اور دوسری ووٹر فہرستوں میں مبینہ طور پر جان بوجھ کر کی جانے والی چھیڑ چھاڑ سے متعلق۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’دونوں ہو رہی ہیں۔‘‘انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بارے میں بھی سخت دعویٰ کرتے ہوئے اسے ’’مکمل طور پر فکس اور رگڈ‘‘ قرار دیا۔ یہ راہل گاندھی کا سیاسی الزام ہے، جسے انہوں نے انتخابی عمل سے متعلق کانگریس کے اعتراضات کے تناظر میں پیش کیا۔LIVE: Special Congress Party Briefing by Shri @kcvenugopalmp & Shri @Jairam_Ramesh at AICC HQ, New Delhi https://t.co/zEQeqEvzhE— Congress (@INCIndia) September 29, 2026ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے دسمبر 2023 میں بنائے گئے قانون کا بھی حوالہ دیا، جس میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کو بعض قانونی کارروائیوں سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس قانون کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ کانگریس کو احتجاج اور مزاحمت کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔راہل گاندھی نے 1930 میں لاہور میں ہوئے کانگریس اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی کانگریس نے برطانوی حکومت کے موقف کے خلاف ’مکمل سوراج‘ کا راستہ اختیار کیا تھا۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت عوام کی آواز سننے سے انکار کر رہی ہے، اس لیے جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعتوں کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔