عراق میں مشن اختتام پذیر، آپ جلد ایران کے حوالے سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیں گے: ٹرمپ

Wait 5 sec.

واشنگٹن (30 ستمبر 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 سال بعد عراق سے افواج کے انخلا کو داعش کے خلاف بڑی فتح قرار دے دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکی افواج کا آخری دستہ آج عراق سے روانہ ہو رہا ہے، ہم وہاں ایک بہترین وزیر اعظم چھوڑ کر جا رہے ہیں، اربیل ایئر بیس سے اتحادی افواج اور آلات کا انخلا فوجی موجودگی کا خاتمہ ہے، میرے پاس عراق میں رہنے کا آپشن تھا لیکن میں نے واپسی کا فیصلہ کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عراق سے انخلا امریکا کیلیے بڑا دن اور داعش کے خلاف حتمی فتح ہے، اربیل ایئر بیس سے انخلا منظم طریقے سے جاری ہے افغانستان جیساحال نہیں ہوگا، افواج کا منظم انخلا ایک انتہائی مہنگے سفر کا اختتام ہے، امید ہے عراقی وزیر اعظم اچھی طریقے سے معاملات چلائیں گے۔یہ بھی پڑھیں: امریکی فوج عراق سے نکل گئی، ایران اور اتحادیوں کا جشنامریکی صدر نے مزید کہا کہ عراق میں ہمارا مشن کامیابی پر اختتام پذیر ہوا ہے، عراقی وزیر اعظم نے ملک میں صورتحال پر قابو پا لیا ہے، اب یہاں داعش کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان کی جنگ میں ساڑھے 4 ہزار امریکی فوجی کھوئے لیکن وینزویلا پر حملے کے دوران کسی فوجی کو نہیں کھویا، میرے پاس عراق میں رہنے یا وہاں سے نکل آنے کا اختیار تھا لیکن میرا یہ ماننا تھا کہ اب امریکی افواج کیلیے وطن واپس لوٹنے کا وقت آگیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آپ جلد ہی ایران کے حوالے سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیں گے، ہم نے آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے، حالیہ دنوں میں آبی گزرگاہ سے تیل کی بہت بڑی مقدار گزری ہے، ایرانی معیشت کو تباہ کر دیا ایرانی فضائی و بحری افواج بھی ختم ہوگئیں۔