امریکا اور اسرائیل ایران میں اندرونی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: ایرانی صدر

Wait 5 sec.

تہران: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ جنگ اور فوجی کارروائی کے ذریعے ایرانی عوام کو جھکانا ممکن نہیں، اس لیے اب ایران میں اندرونی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ دشمن ایران کو جنگ کے ذریعے زیر کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے اور اب اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر ملک کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی موجودہ حکمت عملی ایران کے اندر موجود اختلافات کو پیدا کرنا اور انہیں مزید گہرا کرنا ہے۔ ان کے بقول مخالفین یہ سمجھ چکے ہیں کہ بمباری اور میزائل حملوں کے ذریعے ایرانی عوام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس طریقے سے ایران پر قبضہ ممکن ہے۔ایرانی صدر نے ملک کے تمام طبقات اور مختلف گروہوں کو ریاستی امور کی انتظامیہ میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور معاشرے کے مختلف حصوں کے درمیان تعاون کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ایران جنگ پر آنے والے برسوں میں کتابیں لکھی جائیں گی، ٹرمپانہوں نے کہا کہ بیرونی دباؤ اور فوجی کارروائی کے ذریعے ایران کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔