برطانیہ: ویٹرن براڈکاسٹر 86 برس کی عمر میں چل بسیں

Wait 5 sec.

لندن: برطانیہ کی معروف ویٹرن براڈکاسٹر ڈیم ایسٹر رینٹزن طویل عرصے تک پھیپھڑوں کے کینسر سے نبرد آزما رہنے کے بعد 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈیم ایسٹر رینٹزن کے اہلِ خانہ نے ان کی وفات کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ’انتہائی شاندار خاتون‘ قرار دیا۔رپورٹس کے مطابق ایسٹر نے مئی 2023 میں پھیپھڑوں کے اسٹیج فور کینسر کا علاج کرانے کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ کے طبی معاونت سے زندگی ختم کرنے والے ادارے Dignitas کی رکنیت حاصل کرلی ہے۔ویٹرن براڈکاسٹر حالیہ برسوں میں انگلینڈ اور ویلز میں طبی معاونت سے زندگی ختم کرنے (assisted dying) کو قانونی حیثیت دینے کی مہم کی ایک نمایاں آواز بن گئی تھیں۔اُن کا کہنا تھا کہ جب وہ اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کریں گی تو سوئٹزرلینڈ کے اس کلینک کا سفر کریں گی۔ بعد ازاں ان کی جسمانی حالت اس قدر کمزور ہوگئی کہ وہ یہ سفر کرنے کے قابل نہ رہیں۔واضح رہے طبی معاونت سے زندگی ختم کرنا ایک متنازع مسئلہ ہے اور اس مسئلے پر برطانیہ، فرانس، آئرلینڈ، جرمنی، کینیڈا، امریکا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں قانونی و اخلاقی بحث ہورہی ہے۔فاطمہ زہرا مراکش کی پہلی اور عرب دنیا کی دوسری خاتون وزیر اعظم بن گئیںپرتگال، یونان، برطانیہ، آئرلینڈ، قبرص، کروشیا، ایسٹونیا، بلغاریہ، رومانیہ، پولینڈ، ہنگری اور کئی دیگر یورپی ممالک میں اس پر پابندی عائد ہے۔