انگلینڈ (یکم اکتوبر 2026): ’’معاون موت‘‘ کی حامی بی بی سی کی میزبان ایستھر رینٹزن 86 برس کی عمر میں چل بسیں ان کی موت طبی وجہ سے ہوئی۔برطانوی ٹیلی ویژن بی بی سی کی گھر گھر مقبول عام میزبان ایستھر رینٹزن 86 برس کی عمر میں چل بسیں۔ رینٹزن کے انتقال کا اعلان ان کے اہل خانہ نے بدھ کے روز بی بی سی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا۔رپورٹ کے مطابق رینٹزن اپنے مشہور پروگرام ’’ڈیٹس لائف‘‘ کی وجہ سے گھر گھر مقبول تھیں۔ ان کا شو 1970 اور 80 کی دہائی میں ہر گھر میں دیکھا جانے والا مقبول عام ٹی وی شو تھا۔رینٹزن کے شو "دیٹس لائف!” میں بچوں کے لیے کار میں سیٹ بیلٹ کا استعمال لازمی بنانے، کھیل کے میدانوں میں کنکریٹ کی جگہ محفوظ سطحیں متعارف کروانے، اعضا کے عطیے، مردہ بچے کی پیدائش (stillbirth)، نشے کی لت اور ذہنی صحت جیسے کئی اہم سماجی موضوعات کو اس وقت اجاگر کیا جب ان پر کوئی بات نہیں کرتا تھا اور ان مسائل کو عوام میں قبولیت دلانے اہم کردار ادا کیا۔تاہم ایستھر رینٹزن اپنے ٹی وی شو کی مقبولیت کے دوران ہی 80 کی دہائی کے اوائل میں پیپھڑوں کے نا قابل علاج کینسر کے مرض کی تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد وہ برطانیہ میں معاون موت کو قانونی حیثیت دینے کی مہم کی نمایاں حامی بن گئی تھیں۔کئی دہائیوں کے بعد جب گزشتہ برس جون میں ہاؤس آف کامنز نے اینڈ آف لائف بل کے حق میں ووٹ دیا تو وہ اپنی ’’معاون موت‘‘ کو قانونی حیثیت دینے پر بہت خوش ہوئی اور انہوں نے اس اقدام کی تعریف کی تھی۔نومبر 2025 میں، ایستھر نے بتایا کہ انہوں نے کینسر کا علاج کروانا چھوڑ دیا ہے۔ ان کا دیرینہ منصوبہ یہ تھا کہ وہ ‘اسسٹڈ ڈائنگ’ کے لیے سوئٹزرلینڈ میں واقع ‘ڈیگنیٹاس’ (Dignitas) کلینک جائیں گی۔ تاہم وہ آخر میں چلنے پھرنے کے قابل بھی نہ رہیں، جس کے باعث وہ اپنی خواہش پر عمل کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ نہ جا سکیں۔انہوں نے اپنی زندگی میں کئی اہم سماجی خدمات بھی انجام دیں۔ بچوں اور بزرگوں کے لیے ہیلپ لائن قائم کیں۔برطانیہ کی آنجہانی ملکہ الزبتھ بھی ایستھر رینٹزن کی مداح تھیں اور ان کا ٹی وی شو "دیٹس لائف!” باقاعدگی سے دیکھا کرتی تھیں۔