دبئی: مسافر طیارے میں پائلٹوں کی لڑائی کے معاملے پر ترجمان فلائی دبئی کا مؤقف سامنے آگیا ہے۔ترجمان فلائی دبئی کے مطابق واقعہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز ایف زیڈ 1073 کے کاک پٹ میں پیش آیا جس کے بعد پرواز میں موجود ایئرلائن کےعملے نے طیارے کو بحفاظت کنٹرول کرلیا۔فلائی دبئی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پرواز کا رخ موڑ کر سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتارا گیا، پرواز کے تمام مسافر اور عملہ محفوظ ہیں، فلائی دبئی نے 2 متبادل طیارے تبوک بھیج دیے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے سے دیگر شیڈول پروازوں پر کوئی اثر نہیں پڑا، واقعے کی وجوہات اور محرکات فی الحال معلوم نہیں ہوسکیں لیکن اس کی باضابطہ تحقیقات کی جائیں گی جس سے قبل حکام کی جانب سے حقائق جمع کرنے تک قبل ازوقت قیاس آرائی سے گریز کیا جائے۔فلائی دبئی ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ تمام مسافروں اور عملے کی حفاظت، صحت اور بہبود اولین ترجیح ہے، ایئرلائن واقعے کی باضابطہ تحقیقات میں حکام سے مکمل تعاون کرے گی۔سعودی عرب کا اسرائیل کو فوجی یا سول طیارہ بھیجنے کی درخواست دینے سے انکارسی این این کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے اسرائیلی طیارے کو مسافروں کو واپس لے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔اسرائیل نے تبوک سے مسافروں کو واپس لانے کے لیے فوجی یا سول طیارہ بھیجنےکی درخواست کی تھی، سعودی ایوی ایشن حکام مسافروں کے لیے متبادل طیارے کے انتظامات کررہے ہیں۔خبر کا پس منظردبئی سے تل ابیب جانے والی غیر ملکی ایئر لائن میں پائلٹس کی لڑائی اور ممکنہ ہائی جیکنگ کے خدشات کے پیش طیارے کو سعودی عرب اتار لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی غیر ملکی ایئر لائن ‘فلائی دبئی’ کے طیارے میں دورانِ پرواز دو پائلٹس کے درمیان لڑائی کے بعد سنسنی خیز ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی۔دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پائلٹس کی لڑائی نے مسافروں کی زندگی خطرے میں ڈال دیجس کے نتیجے میں مسافروں کی جانیں شدید خطرے میں پڑ گئیں اور طیارے کو ہنگامی بنیادوں پر سعودی عرب کے شہر تبوک میں لینڈ کرنا پڑا۔امریکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ پرواز کے دوران کاک پٹ میں دونوں پائلٹس کے مابین شدید تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد ایک پائلٹ نے دوسرے پر چاقو سے حملہ کر دیا اور طیارہ کریش کرنے کی کوشش کی۔ہنگامی صورتحال پیدا ہوتے ہی طیارے سے مسلسل 7 منٹ تک ایمرجنسی سگنل جاری ہوتے رہے۔واقعے کے باعث اسرائیلی حکام میں ممکنہ ہائی جیکنگ کے خدشات پیدا ہوگئے اور سیکیورٹی ردعمل کے طور پر اسرائیل نے جنگی طیارے بھی فضا میں بھیج دیے۔