باہمی سمجھوتے کے بعد جہیز ہراسانی کی ایف آئی آر منسوخ، شوہر اور سسرال والوں کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت

Wait 5 sec.

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں میاں بیوی کے درمیان باہمی سمجھوتے کے بعد جہیز ہراسانی اور شوہر و سسرال والوں کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کر دی۔ عدالت نے کہا کہ جب فریقین نے اپنے ازدواجی تنازعہ کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا ہے اور معاملہ بنیادی طور پر نجی نوعیت کا ہے تو مجرمانہ کارروائی جاری رکھنے کا کوئی مفید مقصد باقی نہیں رہتا۔جسٹس رویندر ڈوڈیجا کی سنگل بنچ نے محمد قاسم اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جامعہ نگر تھانے میں درج ایف آئی آر اور اس سے متعلق تمام کارروائی منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ یہ مقدمہ ابتدا میں تعزیرات ہند کی دفعہ 498 اے، 406 اور 34 کے تحت درج کیا گیا تھا۔عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق شکایت کنندہ خاتون اور درخواست گزار نمبر ایک کی شادی 11 مارچ 2023 کو مسلم رسومات کے مطابق ہوئی تھی۔ اس شادی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ بعد میں جہیز کے مطالبے اور جسمانی و ذہنی ہراسانی کے الزامات سامنے آئے، جس کے بعد دونوں 28 ستمبر 2023 سے الگ رہنے لگے۔خاتون کی شکایت پر یکم اکتوبر 2024 کو ایف آئی آر درج کی گئی۔ بعد ازاں پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 498 اے، 506، 406، 509، 354 سی اور 34 کے علاوہ جہیز کی ممانعت سے متعلق قانون کی دفعہ 3 اور 4 کے تحت چارج شیٹ بھی داخل کی۔مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت نے فریقین کو ثالثی کے لیے بھیجا۔ دونوں نے ساکیت عدالت کے ثالثی مرکز میں اپنے اختلافات کو باہمی رضامندی سے حل کر لیا۔ اس سمجھوتے کو 7 فروری 2026 کو تحریری طور پر درج کیا گیا۔ سمجھوتے کے تحت شوہر اور شکایت کنندہ نے 7 مارچ 2026 کو مسلم پرسنل لا کے تحت ’خلع‘ لے لیا۔ درخواست گزار نے سمجھوتے کے مطابق شکایت کنندہ کو ڈیڑھ لاکھ روپے کی مکمل رقم بھی ادا کر دی۔سماعت کے دوران دونوں فریق عدالت میں موجود تھے۔ شکایت کنندہ نے عدالت کو بتایا کہ سمجھوتہ اس کی مرضی سے، بغیر کسی دباؤ، خوف یا زبردستی کے ہوا ہے۔ اس نے یہ بھی تصدیق کی کہ اسے طے شدہ رقم اور اس کا سامان موصول ہو چکا ہے اور اسے ایف آئی آر منسوخ کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔جسٹس ڈوڈیجا نے فریقین کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ مجرمانہ کارروائی جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، خصوصاً جب معاملے میں کوئی عوامی مفاد شامل نہ ہو اور تنازع بنیادی طور پر نجی نوعیت کا ہو۔ عدالت نے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 528 کے تحت اپنی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایف آئی آر نمبر 362/2024 اور اس سے متعلق تمام کارروائی منسوخ کر دی اور درخواست منظور کر لی۔یہ فیصلہ اس پہلو کو واضح کرتا ہے کہ ازدواجی تنازعہ سے متعلق بعض فوجداری مقدمات میں فریقین کے درمیان رضاکارانہ اور مکمل سمجھوتہ ہو جانے کے بعد عدالت حالات کے مطابق مجرمانہ کارروائی جاری رکھنے یا اسے ختم کرنے پر غور کر سکتی ہے۔