سعودی کابینہ نے شام اور ترکیہ سے مختلف امور میں مفاہمت کی منظوری دے دی جب کہ اسرائیلی اقدامات اور آبنائے ہرمز سے فیس وصولی کو سختی سے مسترد کر دیا۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہوئے والے اجلاس میں شام اور سعودی عرب کے درمیان انسداد ِبدعنوانی کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی گئی جب کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان خصوصی پاسپورٹ رکھنےوالوں کیلئے ویزا شرائط سے استثنیٰ دیا گیا۔سعودی کابینہ نے اسرائیلی آبادکاروں کی مسجد اقصیٰ کی حرمت کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کی توسیع پسندانہ کوششوں کو مسترد کر دیا گیا۔ کابینہ نے واضح کہا کہ منصفانہ اور دیرپا امن صرف دو ریاستی حل پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔اجلاس میں آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر، خلیج عدن میں بحری آمدورفت کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے آبنائے ہرمز میں 28فروری سے پہلے کی صورتحال بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سعودی کابینہ نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فیس یا پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے اہم بحری راستوں کو دباؤ کیلئے استعمال کرنے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ولی عہد محمد بن سلمان نے شرکا کو روسی صدر سے ٹیلیفونک رابطے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ولی عہد نے قطری امیر، سوڈان کونسل کےسربراہ عبدالفتاح البرہان سے ٹیلیفونک گفتگو اور اماراتی نائب صدر سے ملاقات کی تفصیلات سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا۔اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی مرکز کے پروگرامز کیلئے مالی معاونت کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی کی تمام شکلوں کےخلاف عالمی کوششوں کو جاری رکھنا ضروری ہے۔