کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے سابق مرکزی وزیر برائے توانائی اور سابق مرکزی داخلہ سکریٹری راج کمار سنگھ (آر کے سنگھ) کے ذریعہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جاری کھلے خط کو پیش نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ پون کھیڑا نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی کے سابق لیڈر اور ایڈمنسٹریٹو نظام کو اندر سے جاننے والے راج کمار سنگھ نے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر کے خلاف سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق یہ خدشات محض ووٹر لسٹس کی تیاری تک محدود نہیں، بلکہ ملک میں جمہوریت اور حق رائے دہی کے بنیادی اصولوں سے متعلق ہیں۔پون کھیڑا نے کہا کہ راج کمار سنگھ نے بالغوں کی حق رائے دہی کے لیے خطرے، انتخابی قوانین اور طریقہ کار کی خلاف ورزی، انتخابی اختیارات کو مرکزی سطح پر مرتکز کرنے، من مانے طریقوں سے انصاف کے فطری اصولوں کی پامالی اور نوجوان ووٹرز کے لیے رکاوٹیں پیدا کیے جانے جیسے اہم مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی آر کے طریقہ کار میں غریبوں کے خلاف تکنیکی معیار کے استعمال، مہاجرین اور محروم طبقات پر غیر متناسب اثرات اور الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی خود مختاری و سیاسی مداخلت سے متعلق سنگین سوالات سامنے آئے ہیں۔پون کھیڑا نے کہا کہ جب انتظامی تجربہ رکھنے والا اور نظام کی باریکیوں سے واقف کوئی سابق اعلیٰ افسر ایسے خدشات ظاہر کرتا ہے تو انہیں محض سیاسی بیان بازی قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستانی انتخابات کی ساکھ تباہ ہو چکی ہے اور عوام کا الیکشن کمیشن پر اعتماد بحال کرنے کے لیے گیانیش کمار گپتا کا استعفیٰ ضروری پہلا قدم ہے۔Former Union Minister for Power and former Union Home Secretary Raj Kumar Singh - a former BJP leader who knows the system from the inside - has delivered a devastating indictment of the ECI’s SIR.His warning goes far beyond the mechanics of electoral rolls. He has flagged:•… https://t.co/Y6dV2THHPj— Pawan Khera ಪವನ್ ಖೇರಾ (@Pawankhera) September 29, 2026دراصل راج کمار سنگھ نے اپنے کھلے خط میں الزام لگایا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران عوامی نمائندگی قانون 1950 کی دفعات 21 اور 22 کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ دفعہ 21 کے تحت خصوصی نظرثانی صرف مخصوص حالات میں تحریری وجوہات درج کرنے کے بعد کسی حلقے یا اس کے کسی حصے میں کی جا سکتی ہے، لیکن پورے ملک میں گہری نظرثانی کا حکم غیر قانونی تھا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ملک بھر میں ایس آئی آر کا فیصلہ پورے الیکشن کمیشن نے کیا تھا یا صرف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے۔آر کے سنگھ نے دعویٰ کیا کہ خصوصی گہری نظرثانی کے دوران ووٹر لسٹس سے نام حذف کیے جانے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہونے کے باوجود نئی لسٹس کی بنیاد پر انتخابات کرائے گئے۔ ان کے مطابق دفعہ 22 کے تحت کسی ووٹر کا نام حذف کرنے کا اختیار صرف الیکٹورل رجسٹریشن افسر کو حاصل ہے اور اس کے لیے مقررہ وجوہات، باقاعدہ انکوائری اور متعلقہ شخص کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینا ضروری ہے۔ راج کمار سنگھ کا الزام ہے کہ بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام بغیر انکوائری اور نوٹس کے حذف کیے گئے۔سابق مرکزی داخلہ سکریٹری نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ جن ووٹرز کے نام حذف کیے گئے، انہیں نئے ووٹر کی حیثیت سے فارم 6 بھرنے اور اپنی اہلیت کے ثبوت پیش کرنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے 1995 کے لال بابو حسین مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر کو نااہل ثابت کرنے کی ذمہ داری متعلقہ افسر یا اعتراض کرنے والے کی ہے، نہ کہ ووٹر کی۔ انہوں نے فارم 6 میں 2003 کی ووٹر لسٹ میں والدین کے ناموں کے اندراج کا سلسلہ نمبر درج کرنے کی نئی شرط پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اس سے نوجوان ووٹرز کے اندراج میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔راج کمار سنگھ نے ’لاجیکل ڈسکریپنسی‘ یعنی منطقی تضاد کے نام پر ووٹرز کے نام حذف کیے جانے کو غیر قانونی قرار دیا۔ ان کے مطابق غریب خاندانوں کے پاس پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور ضروری دستاویزات نہ ہونے کے باعث عمر کا اندازہ درج کیا جاتا ہے، لیکن اسی بنیاد پر ان کے بچوں کے نام خارج کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر مزدوروں اور محروم طبقات کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں واپس جا کر دستاویزات جمع کرانا اور پیچیدہ فارم بھرنا مشکل ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس عمل سے غیر قانونی تارکین وطن کے بجائے غریب ہندوستانی شہری زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس کھلے خط میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کو مرکزی سطح پر مرتکز کرنے اور الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو ووٹر لسٹس تک رسائی نہ دینے پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ راج کمار سنگھ کے مطابق اب تک ایس آئی آر کے ذریعے 13 کروڑ نام حذف کیے جا چکے ہیں، جو ان کے دعوے کے مطابق مجموعی ووٹرز کا تقریباً 13 فیصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے انتخابات میں این ڈی اے اور انڈیا اتحاد کے درمیان ووٹوں کا فرق صرف 3 فیصد تھا، اس لیے اتنی بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے انتخابی نتائج پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سابق افسر نے حزب اختلاف کی پارٹیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ متحد ہو کر چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کے استعفے کا مطالبہ کریں اور ان کے جانشینوں کے انتخاب کے لیے سابقہ طریقۂ کار بحال کرنے پر زور دیں، جس میں وزیر اعظم، قائد حزب اختلاف اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج شامل ہوں۔ انہوں نے زیر التوا اپیلوں کے دوران ہونے والے انتخابات کو منسوخ کر کے دوبارہ انتخابات کرانے اور ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کرانے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کے مطابق جمہوریت کے تحفظ کے لیے عوام کو ان مسائل سے واقف کرانا اور متحد کرنا ضروری ہے۔راج کمار سنگھ نے ایس آئی آر سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عدالت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمشنرز کے انتخاب سے متعلق قانون کو چیلنج کرنے والی درخواست سے متعلق تاخیر پر بھی سوال اٹھایا اور غیر جانبدار انتخابی کمیٹی کے ذریعہ تقرریوں کا مطالبہ کیا۔ پون کھیڑا نے بھی ان خدشات کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی خود مختاری اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اہم قرار دیا ہے۔