آگرہ: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی آگرہ واقع رہائش کے باہر ’غدار‘ لکھنے کے معاملے میں گرفتار کانگریس کارکنوں سے اتر پردیش کانگریس کے سابق ریاستی صدر اجے کمار للو نے جمعرات کو جیل میں ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی عمل کو لے کر کئی الزامات عائد کیے۔ یہ احتجاج 28 ستمبر کو کانگریس کے ملک گیر احتجاج کے دوران ہوا تھا، جس کے بعد آگرہ میں کانگریس کے بعض کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔اجے کمار للو نے گیانیش کمار کے لیے ’غدار‘ اور ’ملک دشمن‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر کی متنازعہ کارروائیوں سے ملک کے جمہوری نظام، کسانوں اور نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے میں کانگریس کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے تو انہیں بھی گرفتار کیا جائے اور مقدمے میں ان کا نام شامل کیا جائے۔للو نے کہا کہ اگر کسی شخص کو ’چور‘ یا ’غدار‘ کہنا جرم مانا جا رہا ہے تو وہ اس معاملے پر اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکن گاؤں، گلیوں، چوراہوں اور دیواروں تک پر انتخابی عمل کے حوالے سے اپنا احتجاج درج کراتے رہیں گے۔انہوں نے انتخابات میں ’ووٹ چوری‘ کے کانگریس کے الزام کو بھی دہرایا۔ للو نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت ووٹ چوری کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔ یہ کانگریس کی جانب سے لگایا گیا سیاسی الزام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس طویل عرصے سے گیانیش کمار کے کردار اور انتخابی عمل کی شفافیت کو لے کر سوال اٹھاتی رہی ہے اور انتخابی نظام میں شفافیت و غیر جانب داری کا مطالبہ کر رہی ہے۔اجے کمار للو نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے تقرری سے متعلق انتخابی کمیٹی میں وزیر اعظم، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور سپریم کورٹ کے جج کی نمائندگی ہوتی تھی۔انہوں نے الزام لگایا کہ قانون میں تبدیلی کے بعد سپریم کورٹ کے جج کی جگہ حکومت کی جانب سے نامزد وزیر کو انتخابی کمیٹی میں شامل کیا گیا، جس سے تقرری کے عمل میں حکومت کا اثر بڑھ گیا ہے۔ للو نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کی غیر جانب داری جمہوری نظام کے لیے اہم ہے۔