ایران کی پروازیں 42 فیصد کم کیوں ہو گئیں؟

Wait 5 sec.

امریکی پابندی کے بعد تہران کی پروازوں میں 42 فیصد کمی آئی ہے لیکن کچھ بین الاقوامی روٹس بدستور برقرار ہیں۔ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی ایئر لائنز پر امریکی پابندی کے بعد سے تہران کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے آنے اور جانے والی پروازوں کی تعداد میں تقریباً نصف (42 فیصد) کمی آئی ہے، تاہم کچھ مقبول روٹس (فضائی راستے) بدستور فعال ہیں۔ٹریکنگ پلیٹ فارم ‘فلائٹ ریڈار 24’ (FlightRadar24) کے اعداد و شمار کے مطابق 23 ستمبر کو امریکی پابندی کے نفاذ کے بعد سے تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روزانہ اوسطاً 53 بین الاقوامی پروازیں آپریٹ ہوئی ہیں، جبکہ پابندی سے قبل یہ اوسط 91 پروازیں روزانہ تھی۔فروری کے آخر میں ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے نتیجے میں ایرانی فضائی حدود کی مکمل بندش کے بعد سے ہی فضائی آمد و رفت میں کمی آ گئی تھی پھر پروازوں کی بحالی کے بعد سے، صرف ایرانی فضائی کمپنیوں نے ہی ایران سے اپنی خدمات جاری رکھی ہیں۔ایرانی پروازیں روکنے کی صورت میں ایئرپورٹس مفلوج کردیں گے، ایران کی ہمسایہ ممالک کو دھمکیپابندی سے قبل ستمبر کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایک عام ہفتے کے دوران 18 ممالک کے لیے پروازیں چلائی جاتی تھیں۔پابندی کے بعد سے جارجیا، عمان اور آذربائیجان کے لیے پروازیں مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں، حالانکہ عام حالات میں ان ممالک کے لیے تہران سے باقاعدہ فضائی سروس موجود رہتی ہے۔ دیگر روٹس پر بھی فضائی آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔’دنیا بھر میں ایرانی ایئرلائنز کی سروس بند، نہ ٹکٹ نہ لینڈنگ کی اجازت ہوگی‘