گیا ضلع کے شیر گھاٹی تھانہ حلقہ میں پہاڑی علاقے میں گھومنے گئے جوڑے کو گھیر کر بدسلوکی، گالی گلوچ اور مار پیٹ کیے جانے کے معاملے میں پولیس نے 8 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں 4 نابالغ اور 4 بالغ افراد شامل ہیں۔ واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کی شناخت کر گرفتاری کی۔ گیا کے سینئر سپرنڈنٹ آف پولیس سشیل کمار نے بتایا کہ شیر گھاٹی تھانہ حلقہ کے چاپی گاؤں واقع پہاڑی علاقے میں نوجوان لڑکا اور لڑکی گھومنے گئے تھے۔ اسی دوران کچھ مقامی افراد نے نوجوان لڑکے سے مار پیٹ اور گالی گلوچ کی۔ واقعہ کی ویڈیو بھی بنائی گئی اور بعد میں اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔STORY | Bihar: 4 held, 4 juveniles detained for 'assaulting' man, female friend in Gaya JiFour persons have been arrested and four juveniles detained after a video purportedly showed villagers beating up a young man and his female friend in Bihar's Gaya Ji district, officials… pic.twitter.com/2NEXlobn4l— Press Trust of India (@PTI_News) September 30, 2026ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ معاملے میں ایف آئی آر درج کرنےکے بعد دیہی ایس پی کی قیادت میں شیر گھاٹی ایس ڈی پی او اور تھانہ انچارج کی ٹیم تشکیل دے کر چھاپے ماری کی گئی۔ پولیس نے وائرل ویڈیو میں نظر آ رہے 8 ملوث افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں 4 نابالغ اور 4 بالغ ہیں۔ سبھی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ کے دوران نوجوانوں پر جوڑے کی بائیک کی چابی چھیننے، گاڑی کے ٹائر کی ہوا نکالنے اور دونوں کو کافی دیر تک وہاں روکے رکھنے کا بھی الزام ہے۔ وائرل ویڈیو میں گاڑی کا پلگ نکالے جانے کی بات بھی سنائی دے رہی ہے۔ پولیس نے واقعہ میں استعمال کیے گئے موبائل فون کو بھی برآمد کر لیا ہے۔ایس ایس پی نے یہ بھی بتایا کہ سوشل میڈیا پر وائرل کیے جا رہے لنک کو ٹیک ڈاؤن کرانے کے لیے متعلق فریق کو بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ یوٹیوبرز اور دیگر سوشل میڈیا صارفین کے ذریعہ لڑکی کا چہرہ بغیر بلر کیے ویڈیو پھیلائے جانے کی جانکاری سامنے آئی ہے۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی کر ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ واقعہ میں شامل نوجوان لڑکا ور لڑکی دونوں بالغ ہیں اور آپس میں دوست ہیں۔ دونوں صرف گھومنے کے لیے چاپی کے پہاڑی علاقے میں گئے تھے۔’بہار حکومت جواب دے کہ شام 7 بجے کوئی لڑکی سڑکوں پر محفوظ کیوں نہیں؟‘ جموئی کی وائرل ویڈیو پر راہل گاندھی کا تلخ سوالایس ایس پی کے مطابق واقعہ کے سلسلے میں پولیس تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ واقعہ سےمتعلق ویڈیو یا متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے والے مواد کو سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں۔ پولیس کی جانب سے وائرل مواد کو ہٹانے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔