دہلی (21 جولائی 2026): مودی کی جابر پالیسیوں کیخلاف بھارتی نوجوان یک زبان ہو گئے اور کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف عوام کا غم وغصہ عروج پر پہنچ گیا ہے اور وہ دو ماہ قبل جنم لینے والی کاکروچ پارٹی کے احتجاج میں بھرپور شرکت کر رہی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نوجوان تحریک سی جے پی کی قیادت میں طلبہ، والدین سیاسی و سماجی کارکنان نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کیلیے بھارتی پارلیمنٹ کا رخ کیا۔اس حوالے سے دو ہفتوں سے بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن اور ماہر ِتعلیم سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد بھارتی طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔رپورٹ کے مطابق کاکروچ پارٹی کی قیادت کے طلبہ کے پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس شیلنگ، بدترین لاٹھی چارج سے روکنے کی کوشش کی، اور بھارتی فورسزنے مظاہرین کو روکنے کے لیے بندوقیں تان لی۔ لیکن وہ عوام کے سیلاب کے آگے ناکام رہے۔مظاہرین کی جانب سے ’وزیراعظم نریندر مودی استعفیٰ دو‘، اور ’وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو‘، کے نعرے لگائے جاتے رہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا کہنا تھا کہ پولیس کی وردی میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے بزدل حرکت کی ہے۔واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب مئی میں نیشنل میڈیکل کالج کے داخلہ ٹیسٹ کے پرچے لیک ہوئے تھے جس کی وجہ سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے اور ان کو دوبارہ امتحان دینا پڑا تھا۔پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور ان کے حامیوں نے پچھلے مہینے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ شروع کیا اور اس کے لیے دھرنا بھی دیا تھا۔نریندر مودی تاریخ میں بھارتی نوجوانوں کے بدترین دشمن ہیں: راہول گاندھی